قانون پر عمل کرنے والے بلڈرز کو منظوری کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے:حسن بخشی
کراچی: ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ڈاکٹر وسیم شمشاد نے کہا کہ ادارہ بلڈرز کی معاونت اور تعمیراتی شعبے کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا تھا اور موجودہ انتظامیہ منظوری کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدام کر رہی ہے۔ ایس بی سی اے کا نظام آٹو میشن پر لانا بنیادی ہداف ہے۔
چیئرمین ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) کے چیئرمین محمدحسن بخشی نے کہا کہ ایس بی سی اے میں اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن اور منظوری کے نظام کو آسان بنایا جائے۔کراچی شہر غیر قانونی تعمیرات کا جنگل بنا ہوا ہے جو کبھی بھی بڑی تباہی کا باعث بن سکتا ہے،غیر قانوی تعمیرات کم کرنے کے لیے پروجیکٹس کے اپروول نظام کا آسان بنایا جائے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے آباد ہاؤس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر آباد کے سینئر وائس چئرمین سید افضل حمید،وائس چیئرمین طارق عزیز،چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تالو،آباد کے سابق چیئرمین جنید اشرف تالو اور ایس بی سی اے کے افسران بھی موجود تھے۔ڈی جی ایس بی سی اے ڈاکٹر وسیم شمشاد نے مزید کہا کہ چالان، فیسوں، ورک سرٹیفکیٹ اور دیگر مراحل کو آٹومیشن پر منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ پوسٹ انسپیکشن سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام قوانین اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے بنائے جائیں گے، غیر قانونی تعمیرات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی، اور ایز آف ڈوئنگ بزنس کے تحت منظوری کے مراحل مزید آسان بنائے جائیں گے تاکہ تعمیراتی صنعت کو فروغ ملے۔انھوں نے کہا کہ بلڈنگ کی مینٹنس کیلئے پوسٹ انسپکشن کا مرحلہ شروع کررہے ہیں،کے ایم سی اور ریسکیو 1122 کا فائر سرٹیفکیٹ بلڈرز کیلئے لینا اہم ہے اس کیلئے بھی اقدام کررہے ہیں۔ چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے کہا کہ کراچی شہر میں غیر قانونی تعمیرات میں متعلقہ اداروں کے افسران بھی ملوث ہیں۔ قانون کے مطابق کام کرنے والے بلڈرز کو سال میں 50 پروجیکٹس کے منظوری مشکل سے ملتی ہے جبکہ غیرقانونی طور پر ہزاروں عمارتوں کی تعمیرات ہورہی ہے۔انھوں نے کہا کہ سندھ بلڈنگ میں ٹیبل ٹو ٹیبل اپروول کے مراحل میں شدید مشکلات پیش آتی ہیں لہ ذاڈیجیٹلائزیشن کیلئے فوری اقدام وقت کی ضرورت ہے۔تعمیراتی شعبے میں یقیناً بعض غلطیاں ہوئی ہوں گی، لیکن بڑی تعداد میں ایماندار اور ذمے دار بلڈرز بھی کام کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ڈی ایچ اے فیز 8 میں تعمیراتی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں، جبکہ ایس بی سی اے کی جانب سے اضافی پارکنگ سے متعلق کیے گئے فیصلے میں آباد سے مشاورت نہیں کی گئی تھی، تاہم گزشتہ روز ہونے والی ملاقات میں یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہوگیا جس پر وہ متعلقہ حکام کے شکر گزار ہیں۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ منظور شدہ نقشوں کی مکمل فہرست فراہم کی جائے، کنڈومینیم ایکٹ پر عملی پیش رفت کی جائے اور عمارت گرنے کے ہر واقعے میں بلاجواز بلڈرز کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے حقائق کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اندرون سندھ کے بلڈرز کو لائسنس کے حصول کے لیے آن لائن سہولت فراہم کی جائے اور حیدرآباد میں ایس بی سی اے کا ریجنل لائسنسنگ دفتر قائم کیا جائے۔
