یہ گردن کٹوا سکتاہوں مگر دین اور دھرتی کے دشمنوں کے سامنے جھکا نہیں سکتا:راشد محمود سومرو

سندھ کی تقسیم پر بینظیر یاد آتی ہیں، کرپشن اور نوکریاں بیچتے وقت کیوں نہیں؟علامہ راشد سومرو

امن عالم اجتماع 2027 کی بھرپور تیاریوں کیلئے بدین کے مختلف علاقوں کا دورہ، علامہ راشد محمود سومرو کی کارکنوں کو دن رات محنت کرنے کی ہدایت

بدین: جمعیت علماء اسلام صوبہ سندھ کے امیر مولانا سائیں عبدالقیوم ہالیجوی کی قیادت میں صوبائی جماعت کے وفد نے ضلع بدین کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر بدین میں پریس کانفرنس، گولارچی اور ٹنڈوباگو میں اجلاس اور عوامی اجتماع منعقد ہوئے، جن سے جمعیت علماء اسلام کے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو نے خطاب کیا۔

علامہ راشد محمود سومرو نے کہا کہ میرے لیے محترمہ فریال تالپر صاحبہ قابلِ احترام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں صوبوں کی حمایت کروں تو حلقے کے عوام کو کیا منہ دکھاؤں گی؟ انہوں نے اپنے ممبران کو مخاطب کرکے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز! اگر آپ نے صوبہ سندھ کی تقسیم کی بات کی تو محترمہ بینظیر بھٹو کو کیا منہ دکھائیں گے؟

انہوں نے کہا کہ سندھ کی تقسیم پر صرف بینظیر صاحبہ کو منہ دکھانا ہے، کرپشن پر کوئی منہ نہیں دکھانا؟ صرف سندھ کی تقسیم پر بینظیر صاحبہ کو منہ دکھانا ہے، نوکریاں بیچنے پر کوئی منہ نہیں دکھانا؟ سندھ کی کرپشن پر بینظیر بھٹو صاحبہ یاد آتی ہیں، لیکن ہزاروں لوگ قبائلی لڑائیوں میں قتل ہو رہے ہیں، قتل کرانے والے قبائلی سرداروں اور جرگے نہ کرانے والے قبائلی سرداروں کو ٹکٹ دے کر وزیر بنایا ہوا ہے، وہاں محترمہ بینظیر بھٹو آپ کو کیوں یاد نہیں آتیں؟

علامہ راشد محمود سومرو نے کہا کہ بینظیر صاحبہ کی تو فکر ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو کو کیا منہ دکھائیں گے، اللہ کی فکر نہیں کہ اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے۔ ہسپتالوں میں کرپشن کر رہے ہیں، اللہ کی فکر نہیں کہ اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے۔ نوکریاں بیچ رہے ہیں، اللہ کی فکر نہیں کہ اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں سات لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں، کیا اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے، اس کی کوئی فکر نہیں۔ ایک ایک ہسپتال سے تین تین اور چار چار کروڑ روپے لے کر پوسٹنگ دیتے ہیں، کیا اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے؟ ایک ایک ہسپتال سے منتھلی ستر ستر اور اسی اسی لاکھ روپے لیتے ہیں۔ بینظیر صاحبہ کو منہ دکھانے کی تو فکر ہے، اللہ کو منہ دکھانے کی فکر نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پورے صوبہ سندھ کو آپ نے منشیات کا اڈہ بنا دیا ہے۔ معصوم بچے آئس، کوکین اور شراب کے نشے میں ڈوبتے جا رہے ہیں اور نوجوان نسل تباہ ہو رہی ہے۔ گلی گلی میں نوجوان نشے کی وجہ سے مر رہا ہے، اس کی کوئی فکر نہیں۔ اللہ کو منہ دکھانے کی کوئی فکر نہیں، بینظیر صاحبہ کو منہ دکھانے کی فکر ہے۔

علامہ راشد محمود سومرو نے کہا کہ کم سے کم جتنا بینظیر سے ڈرتے ہو، اتنا اللہ سے ڈر کر اس سندھ پر رحم کرو، سندھ کے عوام پر رحم کرو اور سندھ کے عوام کے حال پر رحم کرو۔ یہ نااہل ہیں، یہ نالائق ہیں، یہ چور ہیں، یہ وسائل اور جزائر بیچنے والے ہیں، یہ کرپشن کرنے والے ہیں، یہ میرٹ کے قاتل ہیں، یہ ڈاکوؤں کے سرپرست ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تین دن کا ڈراما اس لئے رچایا گیا کہ شاید اٹھارہ سال کے گناہ عوام معاف کر دیں گے، لیکن کسی صورت سندھ کے عوام ان کے گناہوں کو نہ بھولیں گے اور نہ معاف کریں گے۔

علامہ راشد محمود سومرو نے سندھ اسمبلی میں تین روز تک جاری رہنے والی بحث کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تین دن سے اسمبلی کے اندر ایک بحث چل رہی تھی اور بھاری بھرکم تقریریں کی گئیں، مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اسمبلی کے اندر یہ بحث کیوں کروائی گئی۔ وزیراعظم کوئی بات کرتے، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اندر کوئی بات ہوتی، بلوچستان، خیبرپختونخوا یا پنجاب کی اسمبلی کوئی بات کرتی تو سندھ اسمبلی کے اندر بات کرنا معقول تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایک مسخرا، خیراتی ووٹوں پر سینیٹر بنا ہوا، میڈیا پر آ کر نظام کولپس کرنے اور نئے صوبوں کی بات کرتا ہے اور ٹھیک سندھ اسمبلی کے اندر بحث چل جاتی ہے، کیوں؟ کیا یہ وہ بندہ تو نہیں ہے جس نے نظام کولپس ہونے کی بات کی؟ کیا یہ وہ بندہ تو نہیں ہے جس نے نئے صوبے بنانے کی بات کی؟

علامہ راشد محمود سومرو نے کہا کہ جس کو صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری کہتے ہیں کہ میرے دو بیٹے ہیں، ایک کا نام بلاول بھٹو زرداری ہے اور ایک کا نام محسن نقوی ہے، کہیں یہ زرداری صاحب کا بیٹا تو نہیں ہے؟ محسن نقوی، ایک بیٹے نے صوبے بنانے کی بات کی اور دوسرے بیٹے نے اپنی ماں کی تصویر لگا کر کہہ دیا کہ سندھ ماں کو میں تقسیم ہونے نہیں دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ اسی صدر صاحب کی پارٹی کے صوبائی صدر نے سندھ اسمبلی میں ریزولوشن پاس کر دی، اسی صدر صاحب کے وزیراعلیٰ نے زبردست تقریر کر دی، اسی صدر صاحب کے خوانین، نواب اور سردار ’’مرسو مرسو، سندھ نہ ڈیسو‘‘ کے سندھ اسمبلی میں نعرے لگا رہے تھے۔

علامہ راشد محمود سومرو نے کہا کہ یہ کیا تھا؟ یہ ڈراما تھا۔ ڈراما اس بات کا کہ اٹھارہ سال سے جو جرائم کیے ہیں، عوام انہیں سندھ سندھ کے نعرے پر معاف کر دے گی۔ یہ ڈراما تھا، تین دن جو اسمبلی میں رچایا گیا، سندھ کے لوگوں کی آنکھوں میں سرمہ ڈالنے کے لئے تھا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کو جذباتی نعروں کے ذریعے مزید دھوکا نہیں دیا جا سکتا، سندھ کے عوام حکمرانوں کی اٹھارہ سالہ کارکردگی، کرپشن، بدامنی، منشیات، بے روزگاری، تعلیم اور صحت کے مسائل کا حساب ضرور لیں گے۔

جمعیت علماء اسلام کے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو نے خطاب کرتے ہوئے کارکنوں اور عوام سے 19، 20 اور 21 مارچ 2027 کو منعقد ہونے والے امن عالم اجتماع کی بھرپور تیاریوں اور کامیابی کے لیے دن رات محنت کرنے کی اپیل کی۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں