وزیراعظم کی زیر صدارت معیشت کی مجموعی ترقی سمیت اہم معاملات پر اجلاس

وزیراعظم کی زیر صدارت معیشت کی مجموعی ترقی سمیت اہم معاملات پر اجلاس

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت معیشت کی مجموعی ترقی، نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30ء کے نفاذ اور ایف بی آر میں جاری اصلاحات کے حوالے سے دو اہم اجلاس منعقد ہوئے

اجلاس میں برآمدات کے فروغ، سرمایہ کاری میں اضافے اور ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30ء کے تحت مختلف شعبوں کے لیے ٹیرف میں مرحلہ وار کمی کی جائے گی تاکہ برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ لاجسٹکس سیکٹر کی ترقی کے لیے ریفرز کنٹینرز اور سیمی ٹریلرز پر عائد ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ تعمیراتی شعبے کے فروغ کے لیے خصوصی گاڑیوں اور مشینری پر کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کی جا رہی ہے۔

بریفنگ کے مطابق فارماسیوٹیکل صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے خام مال، بالخصوص کینسر کی ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی ختم کی جائے گی۔

وزیراعظم کی زیر صدارت ایف بی آر اصلاحات سے متعلق اجلاس میں ٹیکس وصولیوں میں اضافے، شفافیت اور نظام کو فیس لیس بنانے کے لیے جاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ان لینڈ ریونیو کی وصولیوں کو مزید مؤثر، شفاف اور خودکار بنانے کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا گیا۔

وزیراعظم نے نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30ء پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول حکومت کی اولین ترجیح ہے، نیشنل ٹیرف کمیشن کی فعال اور شفاف کارکردگی ملکی صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے، سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کی سہولت کے لیے کمیشن کو اپنا کردار مزید مؤثر بنانا ہوگا۔

وزیراعظم نے ہدایت دی کہ دنیا بھر میں رائج بہترین طریقہ کار اور جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لاتے ہوئے نیشنل ٹیرف کمیشن میں جدت لائی جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ذریعے خودکار، جدید اور مؤثر ٹیکس مینجمنٹ نظام حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیکس وصولی کے نظام میں انسانی مداخلت اور صوابدیدی اختیارات کو کم سے کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔مجوزہ نظام کے نفاذ سے نہ صرف محصولات میں اضافہ ہوگا بلکہ ٹیکس نظام میں شفافیت، انصاف اور عوامی اعتماد کو بھی فروغ ملے گا۔

وزیراعظم نے معیشت کی دستاویزی شکل اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے ایف بی آر اصلاحات کا عمل جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ مجوزہ آٹومیٹڈ ٹیکس نظام جائیدادوں، گاڑیوں اور بینکوں کے ڈیٹا کی مدد سے کم ظاہر کی گئی آمدن اور اثاثوں کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ٹیکس نظام کو خودکار، شفاف اور مؤثر بنایا جائے گا، جبکہ نئے نظام کے تحت نیشنل فیس لیس آڈٹ ونگ، نیشنل اسیسمینٹ ونگ اور فیلڈ آپریشنز ونگ کے قیام کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں