بجٹ بریفنگ: چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن کا سندھ حکومت سے 5 ارب روپے گرانٹ کا مطالبہ

بجٹ بریفنگ: چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن کا سندھ حکومت سے 5 ارب روپے گرانٹ کا مطالبہ

کراچی: چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے مالی سال برائے  2026-27  کے بجٹ کی منظوری کے بعد ٹاؤن آفس میں منعقدہ پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ محدود مالی وسائل کے باوجود نیو کراچی ٹاؤن میں ریکارڈ ترقیاتی کام انجام دیے گئے ہیں، جبکہ آئندہ چار ماہ کے دوران بڑے پیمانے پر سڑکوں کی تعمیر و بحالی اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے زریعے پورے ٹاؤن کا نقشہ بدل دیا جائے گا۔

انہوں نے گزشتہ مالی سال کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہزار گلیوں کی تعمیر و پختگی کا منصوبہ کامیابی سے مکمل کیا جا چکا ہے، جو نیو کراچی ٹاؤن کی تاریخ کا سب سے بڑا ترقیاتی منصوبہ ہے۔ اس کے ساتھ مختلف شاہراہوں پر روڈ کارپیٹنگ کا کام بھی تیزی سے جاری ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

چیئرمین محمد یوسف نے کہا کہ تعلیم کے شعبے کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے۔ سرکاری اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کی تعمیر و مرمت، اساتذہ کی جدید خطوط پر تربیت اور تعلیمی ماحول کی بہتری کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ نئے مالی سال میں ایک ہزار مستحق طلبہ و طالبات کو تعلیمی کارڈ فراہم کیے جائیں گے تاکہ ان کے والدین کے مالی بوجھ میں کمی لائی جا سکے، جبکہ ماڈل اسکولوں کے قیام اور جدید تعلیمی سہولتوں کی فراہمی پر بھی کام جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ملازمین کے تقریباً  35 کروڑ روپے کے واجبات زیر التوا تھے۔ محدود وسائل کے باوجود ان میں سے کچھ حصہ ادا کیا جا چکا ہے، جبکہ موجودہ ملازمین کی تنخواہیں اور واجبات باقاعدگی سے ادا کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دور میں کسی حاضر سروس ملازم کا ایک روپیہ بھی واجب الادا نہیں چھوڑا گیا۔ہم میڈیا کے زریعے سندھ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملازمین کے بقایا واجبات کی ادائیگی کے لیے خصوصی گرانٹ فراہم کی جائے۔

محمد یوسف نے کہا کہ اگرچہ پانی اور سیوریج کی فراہمی ٹاؤن کی آئینی ذمہ داری نہیں، اس کے باوجود عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹاؤن نے اپنے وسائل سے تقریباً 9 کروڑ روپے خرچ کرکے سیوریج کے مسائل حل کیے اور تقریباً   25 ہزار گھروں تک پانی کی فراہمی ممکن بنائی۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کا نظام ٹاؤنز کے ماتحت کیا جائے تاکہ مقامی سطح پر مسائل کا فوری اور مؤثر حل ممکن ہو سکے۔ اسی طرح سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی ناقص کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صفائی ستھرائی کا نظام بھی ٹاؤن حکومتوں کے حوالے کیا جانا چاہیے تاکہ شہریوں کو بہتر بلدیاتی خدمات فراہم کی جا سکیں۔چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن نے کہا کہ شہریوں کو صحت مند تفریح کی فراہمی کے لیے متعدد پارکس بحال کیے گئے ہیں، جبکہ بچوں کے لیے قائم واٹر پارک عوام میں بے حد مقبول ہوا ہے۔ نارتھ کراچی میں بھی ایک نئے واٹر پارک کی تعمیر پر کام جاری ہے، جس کے بعد نیو کراچی ٹاؤن کے پاس دو جدید سرکاری واٹر پارکس ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ عمر خان لائبریری اور ڈسپنسری کو بھی بحال کیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو بہتر تعلیمی اور طبی سہولتیں میسر آ سکیں۔ سندھ حکومت کی جانب سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ بلدیاتی اداروں کو ترقیاتی فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نیو کراچی ٹاؤن کو آج تک ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک روپیہ بھی نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت صرف OZT   فنڈ جاری کرتی ہے، جو ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے مختص ہوتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر کوئی یہ ثابت کر دے کہ سندھ حکومت نے نیو کراچی ٹاؤن کو ترقیاتی فنڈ دیا ہے تو وہ استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہیں۔

محمد یوسف نے سندھ حکومت سے کم از کم پانچ ارب روپے کی خصوصی ترقیاتی گرانٹ جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نیو کراچی ٹاؤن میں بنیادی انفراسٹرکچر، سڑکوں کی تعمیر، نکاسی آب، تعلیم، صحت اور دیگر عوامی منصوبوں پر تیزی سے کام کیا جا سکے گا۔ اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی ہی شہری مسائل کے مستقل حل کی ضمانت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی میں تعینات کیے جانے والے سرکاری افسران مقامی حالات سے آگاہ اور عوامی مسائل سے واقف ہوں تاکہ ترقیاتی منصوبوں میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا نہ ہوں۔

چیئرمین محمد یوسف نے کہا کہ جماعت اسلامی کے زیرانتظام ٹاؤنز نے محدود وسائل کے باوجود مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور ترقیاتی منصوبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی کراچی کو ترقی یافتہ شہر بنانا چاہتی ہے تو بلدیاتی اداروں کو مالی اور انتظامی طور پر مضبوط بنانا ہوگا۔انہوں نے آخر میں کہا کہ آئندہ چار سے پانچ ماہ کے دوران نیو کراچی ٹاؤن کی بڑی شاہراہوں پر روڈ کارپیٹنگ مکمل کر دی جائے گی اور شہری واضح طور پر علاقے کی بدلتی ہوئی ترقی کا مشاہدہ کریں گے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں