پی ٹی آئی نے دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھ کر اپنی حکومت گنوائی:شرجیل انعام

پی ٹی آئی نے دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھ کر اپنی حکومت گنوائی:شرجیل انعام

کراچی: سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھ کر اپنی حکومت گنوائی۔ معصوم لوگوں کا خون بہتا رہا، جوان شہید ہوتے رہے، لیکن بانی پی ٹی آئی دہشت گردوں کے دفاتر کھلوانے کی باتیں کرتے رہے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت کو درپیش سیاسی بحران کا الزام دینے کے لیے خود اپنے سوا کوئی نہیں۔ عوام کی خدمت اور تحفظ کے بجائے پی ٹی آئی نے صوبے کو اپنی محاذ آرائی کی سیاست کا یرغمال بنا رکھا ہے اور آج اسے اپنے ہی فیصلوں کے نتائج کا سامنا ہے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی جمہوریت اور جمہوری اداروں کی مضبوطی پر یقین رکھتی ہے اور اس نے کبھی اقتدار کے لالچ میں سیاست نہیں کی۔ اگر پیپلز پارٹی کو اقتدار کا شوق ہوتا تو وہ وفاقی وزارتیں حاصل کرتی اور وفاقی حکومت میں شریک ہوتی، لیکن پارٹی نے ہمیشہ اصولوں کی بنیاد پر سیاست کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن جیسے تجربہ کار سیاست دان کی جانب سے مایوس کن بیانات سننے کو مل رہے ہیں، حالانکہ مولانا فضل الرحمٰن خود دہشت گردی کی ہولناکیوں کا سامنا کر چکے ہیں اور ان کی جماعت بھی دہشت گردوں کے ہاتھوں نقصان اٹھا چکی ہے۔ امید ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن دہشت گردی کے خلاف غیر مبہم مؤقف اختیار کریں گے اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ ہمارے شہداء اور معصوم متاثرین کے اہلِ خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں گے۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کے بہادر افسران اور جوان پوری قوم کا فخر ہیں۔ پاک فوج کے جوان ہمارے بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں کی جانوں، سلامتی اور مستقبل کی حفاظت کے لیے چوکس کھڑے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلسل اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ پاک افواج کی غیر معمولی قربانیاں ہمارے امن اور سلامتی کا تحفظ کرتی ہیں۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ہم اپنے شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ ہم اپنی مسلح افواج کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ سیاسی مفادات کو کبھی بھی قومی سلامتی، ہمارے شہداء کی قربانیوں یا پاکستان کی خودمختاری پر ترجیح نہیں دی جانی چاہیے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں