میئر آفس میں آتشزدگی:کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تحقیقات کے بعد تفصیلات سامنے لائی جائیں گی:مرتضیٰ وہاب
کراچی: میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ میئر آفس میں آتشزدگی کے واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ان کا اسٹاف اور عملہ محفوظ رہا،آگ سے جو مالی نقصان ہوا ہے جسے جلد پورا کردیا جائے گا،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فائر بریگیڈ کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ فائر ٹیم نے بہادری اور جرأت کے ساتھ آگ پر قابو پایا، فائر بریگیڈ کی جانب سے جائے وقوعہ کا مکمل معائنہ اور سروے کیا جائے گا جس کے بعد آتشزدگی کی وجوہات اور دیگر تفصیلات میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار پانچ روز کے دوران کراچی میں بڑی سرگرمیاں اور تقریبات منعقد ہوئیں، وہ مسلسل دعا کررہے تھے کہ اللہ تعالیٰ اس شہر کو بری نظر سے محفوظ رکھے اور کراچی کے شہریوں کی خوشیاں قائم رہیں، آج صبح شاید ہلکی سی نظر لگ گئی اور آگ میئر کے کمرے میں لگی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ قانون سے متعلق معاملات میں وہ ہمیشہ محتاط گفتگو کرتے ہیں اور حتمی بات فائر بریگیڈ کی تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
میئر کراچی نے کہا کہ ان کا کمرہ مکمل طور پر جل گیا ہے اور وہاں موجود فرنیچر تباہ ہوگیا ہے، تاہم ان کے کمرے میں کوئی سرکاری ریکارڈ محفوظ نہیں ہوتا، جو فائلیں دستخط کے لیے آتی ہیں ان پر دستخط اور احکامات جاری کرنے کے بعد متعلقہ محکموں کو واپس بھیج دیا جاتا ہے، اس لیے میئر کے کمرے میں کسی اہم سرکاری ریکارڈ کی موجودگی کا تصور درست نہیں،ابتدائی طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ ممکنہ طور پر میئر کے کمرے کے اے سی میں کوئی خرابی ہوئی اور اس کا بیرونی یونٹ کچن کی جانب نصب ہے، تاہم اصل وجہ فائر بریگیڈ کی طرف سے مکمل معائنے کے بعد ہی معلوم ہوسکے گی۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ آتشزدگی کے واقعے کے باوجود وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے اور دفتر میں دوسرے کمرے سے کام کریں گے جبکہ شہر کا دورہ اور دیگر معمول کے امور بھی جاری رہیں گے، انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے طے شدہ پریس کانفرنس اس واقعے کے باعث مؤخر کی گئی ہے، جو آئندہ ایک دو روز میں منعقد کی جائے گی، واقعے کا داخلی سطح پر اور سی سی ٹی وی کیمروں سمیت تمام شواہد کا جائزہ لیا جائے گا، چیف فائر آفیسر کو تحقیقات اور معائنے کا ٹاسک دے دیا گیا ہے، جگہ کلیئر ہونے کے بعد تحقیقات کا عمل شروع کیا جائے گا اور رپورٹ سامنے آنے پر میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے فائر سیفٹی آلات کے حوالے سے کہا کہ فائر ایکسٹنگوشرز اور دیگر حفاظتی آلات کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے رکھے جاتے ہیں اور آج بھی ابتدائی ردعمل میں انہی فائر ایکسٹنگوشرز کے ذریعے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی گئی۔
