ایک لاکھ 72 ہزار ٹن گندم ذخیرہ اندوزوں سے برآمد کی گئی:شرجیل انعام میمن
سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پنجاب اور سندھ میں گندم کی بمپر فصل ہوئی، تاہم فصل کی آمد کے ساتھ ہی منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں نے بڑی مقدار میں گندم خرید کر ذخیرہ کر لی، جس کے باعث سرکاری سطح پر مطلوبہ مقدار میں گندم ذخیرہ نہ ہو سکی۔
کراچی: سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پنجاب اور سندھ میں گندم کی بمپر فصل ہوئی، تاہم فصل کی آمد کے ساتھ ہی منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں نے بڑی مقدار میں گندم خرید کر ذخیرہ کر لی، جس کے باعث سرکاری سطح پر مطلوبہ مقدار میں گندم ذخیرہ نہ ہو سکی۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ نے اس صورتحال پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا تھا، جس کے دوران ایک لاکھ بہتر ہزار ٹن گندم ذخیرہ اندوزوں سے برآمد کی گئی اور جن ذخیرہ اندوزوں سے یہ گندم برآمد ہوئی انہیں سرکاری نرخ ادا کیے گئے۔
انہوں نے گنڈم ذخیرہ کرنے والے ذخیرہ اندوزوں سے متنبہ کی کہ وہ اپنے پاس موجود گندم حکومت کے حوالے کریں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ ان کے مطابق ذخیرہ کی گئی گندم مارکیٹ میں آنے کے بعد قیمتوں میں 13 فیصد کمی واقع ہوئی۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ڈاکٹر آکاش کمار کے قتل کا حکومت سندھ نے فوری نوٹس لیا اور پولیس نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے تین ملزمان، انیل، رام چند اور سریش کو گرفتار کر لیا جبکہ واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کر لی گئی۔ انہوں نے پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر سنگین جرم پر فوری کارروائی کو یقینی بنا رہی ہے۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے شہداء اور غازیوں کے خلاف دیے گئے بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاک افواج نے ہر محاذ پر ملک کا دفاع کیا ہے اور پاک بھارت جنگ میں پاک آرمی، نیوی اور فضائیہ نے دشمن کو عبرتناک شکست دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے جوان وطن کے دفاع کے جذبے سے سرشار ہو کر ڈیوٹی پر جاتے ہیں اور شہادت کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے مودبانہ درخواست کی کہ وہ اپنا بیان واپس لیں، کیونکہ ان کے مطابق اس بیان کو بھارتی میڈیا میں نمایاں کوریج ملی، جس سے دشمن کو فائدہ پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء اور غازی پوری قوم کے ہیروز ہیں، ان کے رتبے کو کسی بیان سے نقصان نہیں پہنچ سکتا، جبکہ پاک افواج میں ملازمت صرف تنخواہ کے لیے نہیں بلکہ وطن کے دفاع کے جذبے کے تحت کی جاتی ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاک بھارت جنگ کے دوران پوری قوم متحد تھی اور ہر طبقے نے اپنے اپنے محاذ پر کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آمریت کے خلاف جدوجہد کی لیکن کبھی اپنی افواج کے خلاف بات نہیں کی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک غیر ملکی دورے کے دوران عمران خان سے متعلق سوال پر کہا تھا کہ وہ میرے وزیر اعظم ہیں، جو قومی یکجہتی کی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلامی دنیا کا واحد ملک ہے جس کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھتا، جس کی بڑی وجہ ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے ملک کو ایٹمی طاقت بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک ہم سب کا ہے، کسی کو اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے اور تمام سیاسی، عسکری، تجارتی اور سماجی طبقات کا ملکی مفاد پر ایک ہی مؤقف ہونا چاہیے۔
سوالات کے جواب دیتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان تجربہ کار سیاست دان ہیں، اگر وہ اپنا بیان واپس لیں گے تو ان کے قد و قامت میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں وزیر اعظم جو بھی فیصلے کریں گے، وہ ملکی معیشت کو مدنظر رکھ کر کریں گے۔ گندم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ نے اپنی اپنی پالیسیاں بنائیں، انہیں نہیں لگتا کہ پنجاب سے افغانستان گندم گئی، تاہم سندھ سے پنجاب گندم جانے کے شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئین کے مطابق کسی بھی صوبے کو دوسرے صوبے جانے والی گندم روکنے کا اختیار حاصل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پریا کماری کا معاملہ انتہائی سنجیدہ ہے اور اس پر حکومت سندھ کا مؤقف پہلے ہی سامنے آ چکا ہے۔ مصطفیٰ کمال کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر وہ دھرنا دینا چاہتے ہیں تو پہلے وفاقی وزارت سے استعفیٰ دیں، اپنی نشست چھوڑیں اور ضمنی انتخاب کا سامنا کریں۔ پانی کی قلت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے متعدد بار وزیر اعظم اور وفاقی حکومت کو خطوط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ سندھ کو اس کے حصے کا پانی فراہم کیا جائے اور ارسا اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے معاہدے کے مطابق صوبوں میں پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپنی قیادت کی قربانیاں دیں، سختیاں برداشت کیں لیکن کبھی قومی اداروں کے خلاف بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کو وردی سمیت ایوانِ صدر میں بٹھانے والی جماعتوں میں ایم ایم اے بھی شامل تھی۔ کراچی کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ شہر ملکی معیشت کی بنیاد ہے، پنجاب میں بین الاضلاعی موٹرویز تعمیر کی جا رہی ہیں، مگر وفاق سندھ میں کوئی بڑا موٹروے منصوبہ نہیں بنا رہا، جو صوبے اور ملکی معیشت کے ساتھ زیادتی ہے۔
ناصر شاہ کی صحت سے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا کہ صوبائی وزیر دبئی میں موجود تھے جہاں دماغ میں بلڈ کلاٹ کے باعث ان کی طبیعت خراب ہوئی اور انہیں علاج کے لیے وہاں اسپتال منتقل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ سندھ میں علاج کی سہولیات موجود نہیں، بلکہ آج بھی صوبے میں جدید اور اسٹیٹ آف دی آرٹ اسپتال موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کی وحدت کے خلاف بات کرنے والے دراصل تصادم چاہتے ہیں تاکہ ان کی مردہ سیاست کو نئی زندگی مل سکے، تاہم حکومت ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کرے گی۔ انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ارسا اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے تمام صوبوں کو معاہدے کے مطابق ان کا حصہ کا جائز پانی فراہم کرے۔
