کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے شہر بھر میں مین ہولز کے لیے سیفٹی نیٹ منصوبے کا آغاز کردیا

کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کا شہر بھر میں مین ہولز کے لیے سیفٹی نیٹ منصوبے کا آغاز کردیا

کراچی: عوامی تحفظ کو یقینی بنانے اور مین ہولز سے پیش آنے والے افسوسناک حادثات کی روک تھام کے لیے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے شہر بھر میں مین ہولز کے ڈھکنوں کے نیچے مضبوط حفاظتی جال (سیفٹی نیٹ) نصب کرنے کا ایک منفرد اور پائیدار منصوبہ شروع کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد خراب، ہٹے ہوئے یا چوری شدہ مین ہول ڈھکنوں کی صورت میں بچوں، پیدل چلنے والوں اور دیگر شہریوں کو اضافی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

میئر کراچی اور چیئرمین کے ڈبلیو ایس سی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے طارق روڈ کا دورہ کیا، جہاں منصوبے کے تحت پہلے حفاظتی جال کی تنصیب اور کامیاب آزمائش کا معائنہ کیا۔ خصوصی طور پر تیار کیا گیا یہ حفاظتی جال 180 کلوگرام تک وزن برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو مین ہول کے ڈھکن کے نیچے ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد حفاظتی نظام فراہم کرتا ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ پائلٹ منصوبے کی کامیابی شہر بھر میں اس منصوبے کے مرحلہ وار نفاذ کی بنیاد ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ کراچی بھر میں مختلف مراحل میں مین ہولز کے نیچے حفاظتی جال نصب کیے جائیں گے، جن میں پہلے مرحلے میں زیادہ آمدورفت والے علاقوں اور عوامی تحفظ کے حوالے سے حساس مقامات کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے طارق روڈ پر اس پائلٹ منصوبے کا کامیاب تجربہ کیا ہے اور اس کے نتائج نہایت حوصلہ افزا ہیں۔ یہ اقدام صرف ایک انجینئرنگ حل نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کے عزم کا اظہار ہے۔ ہمارا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ آئندہ کوئی بھی بچہ یا شہری ایسے قابلِ تدارک حادثات کا شکار نہ ہو.

یہ منصوبہ اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ماضی کے تلخ واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے عارضی اقدامات کے بجائے مستقل اور پائیدار حل اختیار کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے المناک واقعات دوبارہ پیش نہیں آنے چاہئیں۔انہوں نے  کہا کہ ماضی میں ہم نے ایسے دلخراش واقعات دیکھے ہیں جنہوں نے پورے شہر کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کریں تاکہ ایسے حادثات دوبارہ رونما نہ ہوں۔ یہ منصوبہ ایک عملی اور طویل المدتی حل ہے جو عوامی تحفظ میں نمایاں بہتری لائے گا۔ میئر کراچی نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کھلے مین ہولز سے پیش آنے والے حادثات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی تھی کہ شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک جامع اور پائیدار حل تیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حفاظتی جالوں کی تنصیب انہی ہدایات کا عملی نتیجہ ہے، جو شہریوں کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دینے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ دورے کے دوران میئر کراچی نے کے ڈبلیو ایس سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد علی صدیقی کو ہدایت کی کہ منصوبے پر عمل درآمد کی رفتار تیز کی جائے اور بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے شہر بھر میں بڑے پیمانے پر اس کا آغاز کیا جائے۔

انہوں نے زور دیا کہ تمام ضروری اقدامات جلد مکمل کیے جائیں تاکہ شہری اس منصوبے سے جلد از جلد مستفید ہو سکیں۔

منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد علی صدیقی نے میئر کراچی کو منصوبے کے تکنیکی پہلوؤں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ حفاظتی جالوں کی کامیاب لوڈ ٹیسٹنگ کی جا چکی ہے اور انہیں مین ہول کے ڈھکن کے نیچے ایک قابلِ اعتماد ثانوی حفاظتی رکاوٹ کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبہ مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا اور پہلے مرحلے میں ان علاقوں کو ترجیح دی جائے گی جہاں پیدل چلنے والوں کی آمدورفت زیادہ ہے۔ اس موقع پر چیف آپریٹنگ آفیسر اسد اللہ خان اور کے ڈبلیو ایس سی کے دیگر سینئر افسران بھی میئر کراچی کے ہمراہ موجود تھے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں