ہل پارک مبینہ غیر قانونی تعمیرات کیسر میں فریقین سے جواب طلب

ہل پارک مبینہ غیر قانونی تعمیرات کیسر میں فریقین سے جواب طلب

کراچی:سندھ ہائی کورٹ میں جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی و دیگر کی جانب سے ہل پارک میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

عدالت نے میئر کراچی، میونسپل کمشنر کے ایم سی اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے

عثمان فاروق ایڈووکیٹ کے مطابق عدالت نے فریقین سے 17 جولائی تک جواب طلب کرلیا ہے۔عدالتی ہدایات کے مطابق ترمیمی ٹائٹل جمع کروا دیا گیا ہے۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہل پارک شہر کا آخری بڑا سبزہ زار اور تفریحی مقام ہے، ہل پارک کو سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کے تحت تحفظ حاصل ہے۔کے ایم سی کے لینڈ ڈپارٹمنٹ نے اپریل 2026 میں دو این او سیز جاری کئے۔

عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے کہا کہ این او سیز کے ذریعے ہل پارک میں پلاٹ پر تعمیراتی کام کی اجازت دی گئی۔پارک کے ہی ایک اور حصے پر نجی ادارے کی جانب سے اسپورٹس ارینا چلایا جارہا ہے،عوامی پارکس اور کھلے مقامات عوامی امانت ہیں۔عوامی مقامات کو نجی یا تجارتی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا.

وکیل درخواست گزار عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے کہا کہ کے ایم سی کے محکمہ لینڈ کے جاری این او سیز منسوخ کئے جائیں۔ہل پارک میں غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن پر پابندی عائد کی جائے۔تعمیر شدہ ڈھانچوں کو مسمار کرکے زمین کو اصل حالت میں بحال کیا جائے۔

درخواست جماعت اسلامی کے ایم پی اے محمد فاروق، چیئرمین یوسی 2 عرفان اللہ والا اور ممبر سٹی کونسل تیمور احمد نے دائر کی ہے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں