غیر منصفانہ ٹیکس نظام اور  رکاوٹیں

غیر منصفانہ ٹیکس نظام اور  رکاوٹیں

تحریر: عقیل اختر

پاکستان ایک زرعی اور وسائل سے مالا مال ملک ہے، مگر اس کے باوجود یہاں کے عام شہری مسلسل مہنگائی، بے روزگاری اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوے دکھائی دیتے ہیں۔ ہر آنے والی حکومت عوام سے قربانی اور صبر کا مطالبہ کرتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آخر قربانی ہمیشہ غریب اور متوسط طبقے سے ہی کیوں مانگی جاتی ہے پاکستان میں ٹیکس کا نظام اس قدر غیر متوازن اور غیر منصفانہ ہو چکا ہے کہ اس کا سب سے زیادہ بوجھ اُن لوگوں پر پڑتا ہے جو پہلے ہی محدود آمدنی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ایک مزدور جب آٹا، چینی، گھی، موبائل کارڈ یا پٹرول خریدتا ہے تو وہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔ ایک سرکاری یا نجی ملازم کی تنخواہ سے ٹیکس براہِ راست کاٹ لیا جاتا ہے۔ بجلی، گیس اور روزمرہ اشیاء پر عائد سیلز ٹیکس امیر اور غریب دونوں سے یکساں وصول کیا جاتا ہے، مگر عملی طور پر اس کا سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے۔دوسری طرف ایسے طاقتور طبقات بھی موجود ہیں جن کے پاس ہزاروں ایکڑ زمینیں، بڑی جائیدادیں، صنعتیں اور سرمایہ موجود ہے، مگر وہ اپنی اصل مالی حیثیت کے مطابق قومی خزانے میں حصہ نہیں ڈالتے۔

پاکستان میں جاگیردارانہ نظام اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ دنیا کے کئی ممالک جاگیردارانہ ڈھانچے سے نکل کر صنعتی اور تعلیمی ترقی کی طرف بڑھ چکے ہیں، مگر پاکستان کے کئی علاقوں میں آج بھی وڈیرانہ اور سردارانہ سوچ مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ یہی طبقہ اکثر سیاست، مقامی انتظامیہ اور طاقت کے مراکز پر اثر انداز ہوتا ہے، جس کے باعث زرعی اصلاحات اور مؤثر زرعی ٹیکس جیسے اقدامات ہمیشہ کمزور پڑ جاتے ہیں۔تاہم مسئلہ صرف جاگیردارانہ نظام تک محدود نہیں۔ پاکستان میں ایک ایسا مراعات یافتہ طبقہ بھی موجود ہے جو حکومتوں سے خصوصی رعایتیں، ٹیکس چھوٹ، سبسڈیز اور مالی سہولتیں حاصل کر لیتا ہے۔ بعض بڑے صنعتکار اور سرمایہ دار مختلف پالیسیوں کے ذریعے سستے قرضے حاصل کرتے ہیں  بجلی اور گیس پر خصوصی رعایتیں لیتے ہیں  خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے کم قیمت پر خرید لیتے ہیں ا ور پھر انہی اداروں سے بڑے منافع کماتے ہیں۔یہی نہیں، بعض اوقات ایسے طبقات سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے اپنے واجبات میں رعایتیں بھی حاصل کر لیتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایک عام شہری بجلی کے بل میں معمولی تاخیر پر جرمانہ ادا کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہی تضاد عوام کے اندر احساسِ محرومی اور بے اعتمادی پیدا کرتا ہے۔

پاکستان میں اکثر حکومتیں ٹیکس اصلاحات کی بات تو کرتی ہیں، مگر عملی طور پر آسان راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ پٹرول مہنگا کر دیا جاتا ہے، سیلز ٹیکس بڑھا دیا جاتا ہے، یا بجلی پر سرچارج لگا دیا جاتا ہے، کیونکہ یہ بوجھ فوری طور پر عوام پر منتقل ہو جاتا ہے۔ لیکن طاقتور اور مراعات یافتہ طبقات کو مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے جس سیاسی جرات اور ادارہ جاتی طاقت کی ضرورت ہے، وہ کم دکھائی دیتی ہے۔یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ تمام صنعتکار یا بڑے زمیندار ایک جیسے نہیں۔ کچھ لوگوں نے ملک میں صنعتیں لگائیں، روزگار پیدا کیا، اسکول اور اسپتال بنائے اور فلاحی کام بھی کیے۔ مگر مجموعی طور پر عوام میں یہ تاثر مضبوط ہو چکا ہے کہ پاکستان میں معاشی نظام کا فائدہ زیادہ تر طاقتور طبقے کو پہنچتا ہے جبکہ اس کا بوجھ غریب عوام اٹھاتی ہے۔دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی ملک اُس وقت تک حقیقی ترقی حاصل نہیں کر سکتا جب تک قانون سب پر یکساں نافذ نہ ہو،طاقتور طبقہ بھی جوابدہ نہ ہو،تعلیم اور شعور عام نہ ہوں،اور ٹیکس کا بوجھ انصاف کے ساتھ تقسیم نہ کیا جائے۔پاکستان کو اگر واقعی ترقی کرنی ہے تو اسے صرف قرضوں اور وقتی امداد پر انحصار ختم کر کے ایک ایسا معاشی اور سماجی نظام قائم کرنا ہوگا جہاں ایک مزدور، ایک کسان، ایک استاد، ایک صنعتکار اور ایک جاگیردار سب قانون کے سامنے برابر ہوں۔ کیونکہ جب تک قربانی صرف غریب کے حصے میں اور مراعات صرف طاقتور کے حصے میں آتی رہیں گی، اُس وقت تک معاشی انصاف اور حقیقی ترقی کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں