آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام سندھی اسٹیج ڈرامہ ’’امید‘‘ پیش کیا گیا، شائقینِ تھیٹر کی جانب سے بھرپور پذیرائی
کراچی: سندھی اسٹیج ڈرامہ ’’امید‘‘ کے مصنف یعقوب کلہوڑو جبکہ ہدایت کار رضوان صابر تھے۔ ڈرامے میں ماہی گیروں کی زندگی، ان کی محنت، مشکلات، دکھ، خوشیاں، احساسات ماہی گیر سخت حالات میں کس طرح زندگی بسر کرتے ہیں اور سمندر میں مچھلی کے شکار کے دوران انہیں مختلف مشکلات، خطرات اور مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈرامے کے ذریعے ماہی گیر برادری کی زندگی کے ان پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا جو عام طور پر ناظرین کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔
ڈائریکٹر رضوان صابر نے ڈرامے کا اسٹیج سیٹ میں ماہی گیروں کی زندگی اور سمندری ماحول کی بھرپور عکاسی کی گئی، جبکہ روشنی، منظرکشی اور سیٹ کی بہترین ترتیب نے ڈرامے کی پیشکش کو مزید جاندار اور مؤثر بنا دیا۔
اس موقع پر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے صدر جناب سید محمد احمد شاہ نے کہا کہ علاقائی زبانیں ہماری ثقافت، تہذیب اور شناخت کی عکاس ہیں۔ آرٹس کونسل کی جانب سے علاقائی زبانوں کے ڈراموں کو پلیٹ فارم فراہم کرنے کا مقصد مختلف علاقوں کی ثقافت، روایات اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور فنکاروں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم کرنا ہے،۔ڈرامے کے تمام فنکاروں نے اپنی شاندار اداکاری سے ناظرین کو متاثر کیا کہ کئی افراد کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ نسرین ناز، زولفی شاہ، کومل ناز، عرس ناریجو، یعقوب کلہوڑو، ,اے جی خان،منظور بروہی،،قادر جاکرو ،رضیہ شیخ، رشید راجا , شکیل احمد،سائیں بخش،وزیر درس،نے اپنے اپنے کردار بھرپور انداز میں ادا کیے۔ورکنگ ڈے ہونے کے باوجود بڑی تعداد میں شائقین ڈراما دیکھنے کے لیے آرٹس کونسل پہنچے اور انہوں نے ڈرامے کو بھرپور توجہ اور دلچسپی سے دیکھا۔ شائقین نے فنکاروں کی پرفارمنس، خوبصورت اسٹیج سیٹ اور ڈرامے کے موضوع کو سراہتے ہوئے پوری ٹیم کو داد دی۔
ہدایت کار رضوان صابر نے ڈرامے کو حقیقت کے قریب رکھتے ہوئے ماہی گیروں کی زندگی کے دکھ، مسائل اور جذبات کو مؤثر انداز میں پیش کیا، ’’امید‘‘ نے ناظرین کو محظوظ کرنے کے ساتھ ساتھ ماہی گیر برادری کی زندگی، ان کی مشکلات اور ان کے خوابوں کی جانب بھی توجہ مبذول کرائی۔ ڈرامے کے اختتام پر شائقین نے فنکاروں، مصنف، ہدایت کار اور پوری ٹیم کی شاندار پیشکش کو بھرپور سراہا۔
