انتظامی یونٹ بنیں گے، کوئی فرد، سیاسی جماعت اور نمائندہ روک نہیں سکتا: محسن نقوی
میں اِس نوکری پر رہوں یا نہ رہوں، میں اِس چیز سے اب پیچھے نہیں ہٹوں گا، وزیر داخلہ کا ’قومی پالیسی مکالمہ‘ سے خطاب
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ عہدہ رہے نہ رہے نئے صوبوں کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا
انہوں نے کہا کہ میں صوبہ اسلام آباد کا سب سے بڑا حامی ہوں، انتظامی یونٹ بن کر رہیں گے، نہ کوئی فرد واحد، نہ کوئی سیاسی جماعت اور نہ ہی نمائندے روک سکتے ہیں، اگر یہ عوام کے دل کی آواز ہے تو یہ ہو کر رہے گی۔
لاہور میں ’قومی پالیسی مکالمہ‘ کے عنوان سے جاری تقریب میں خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ 79سال بعد بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرپا رہے
محسن نقوی نے کہا کہ نظام کو ری سیٹ کرنا ضروری ہے، ہم نے اپنے ملک کے نظام کو دیکھنا ہے اور ہمیں واضح ہونا چاہیے کہ نظام کو ری سیٹ کرنے کی بات کا اصل مقصد کیا ہے۔ نظام کو ری سیٹ کرنے کی بات کی مختلف تشریحات کی گئیں، بعض لوگوں نے نظام کی ری سیٹنگ کو موجودہ حکومت سے جوڑا، بعض لوگوں نے نظام کی ری سیٹنگ کو موجودہ سیاسی بندوبست سے تعبیر کیا لیکن نظام کو ری سیٹ کرنے کی بات کسی ایک حکومت یا سیاسی جماعت کی طرف اشارہ نہیں تھی۔
وفاقی وزیر محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھی اپنے نظام کا جائزہ لینا ہوگا، ہمارا مقصد حکومت یا کسی سیاسی جماعت کو تبدیل کرنا نہیں، ہمارا مقصد نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنا ہے، 79 سال میں بہت سے منصوبے بنے لیکن عوام کو مطلوبہ نتائج نہیں مل سکے، تعلیم، صحت، صاف پانی اور صفائی بنیادی سہولیات ہر شہری کو ملنی چاہئیں، نظام میں بہتری اور بہتر ڈیلیوری سے عوام کے مسائل حل ہوں گے۔ تاریخیکتابیں دریافت کریں اسلام آباد واحد شہر ہے جسے کوئی بجٹ نہیں ملتا،سی ڈی اے اپنی زمینیں بیچ کر سسٹم چلاتاہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کیا بلوچستان میں کوئٹہ، کے پی کے میں پشاور ، پنجاب میں لاہور اور سندھ میں کراچی جیسا کوئی شہر ہے؟ میرے خیال سے جو مئیر ہوتا ہے، وہ عام آدمی کے مسائل زیادہ بہتر جانتا ہے، میں اب اس سے پیچھے نہیں ہٹنے والا، نئے مئیر تو آئیں گے، اگر عوام کی بہتری کے لیے نئے انتظامی یونٹس ضروری ہیں اور عوام بھی یہی چاہتی ہے تو پھر اس میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ری سیٹ یا نظام سے متعلق بیان میں میرا اشارہ نہ کسی سیاسی جماعت کی طرف تھا نہ ہی کسی سیاسی بندوبست کی طرف میں نے اس نظام کے ری سیٹ کی بات کی جو 79 سے چل رہا ہے۔5ویں کلاس کا بچہ عام جملے بھی نہیں پڑھ پاتا یہ ہمارے ایجوکیشن کا حال ہے، میں اس نوکری پر رہوں یا نا رہوں، میں اس چیز سے پیچھے نہیں ہٹوں گا،چاہے جو بھی نتیجہ ہو۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ نئے صوبے بنانے کا کام آئین کے اندر رہ کر کرنا ہے۔ نئے انتظامی یونٹس بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ کسی حکومت یا جماعت کو نہیں بلکہ عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے۔ اگر پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ نئے انتظامی یونٹس بنیں تو وہ ہر صورت بننے چاہییں، لیکن اگر عوام نہیں چاہتی تو یہ یونٹس نہیں بننے چاہییں، انتظامی یونٹ بن کر رہیں گے، نہ کوئی فرد واحد، نہ کوئی سیاسی جماعت اور نہ ہی نمائندے روک سکتے ہیں، اگر یہ عوام کے دل کی آواز ہے تو یہ ہو کر رہے گی۔ تاریخیکتابیں دریافت کریںنئے صوبوں کا فیصلہ عوام کی مرضی سے ہوگا، یہ صرف اس صورت میں ہوگا جب عوام چاہیں گے، آپ کی رائے کی اہمیت نہیں، عوام کی رائے کی اہمیت ہے۔ اگر اس معاملے میں عوام کی مرضی ہے تو اسے ہونے دینا چاہیے۔ایڈمنسٹریٹو یونٹ سے متعلق آجکل بہت جذباتی تقاریر ہورہی ہیں، پلیز اس پر جذباتی نہ ہوں، یہ ایسی چیز نہیں ہے جو کل پرسوں ہونے جارہی ہے،یہ صرف اس صورت میں ہوگی اگر عوام چاہے گی،اس میں آپ کی رائے میٹر نہیں کرتی عوام کی رائے اہمیت رکھتی ہے،سارے ریلیکس رہیں۔
