مون سون بارشوں میں یونیورسٹی روڈ پر ڈیزاسٹر کا خطرہ ہے، ڈاکٹر فواد

مون سون بارشوں میں یونیورسٹی روڈ پر ڈیزاسٹر کا خطرہ ہے، ڈاکٹر فواد

کراچی: گلشن اقبال ٹاؤن کے چیئرمین ڈاکٹر فواد احمد نے کہا ہے کہ نیپا تک حسن اسکوائر سڑک کی تعمیر مکمل مکمل نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریڈ لائن منصوبے کی وجہ سے حالیہ بارشوں میں یونیورسٹی روڈ پر ڈیزاسٹر کا خطرہ ہے ۔ ڈسکو بیکری کے قریب فلائی اوور کی تعمیر کا منصوبہ غیر ضروری ہے جس سے شہریوں کی پریشانی میں کمی کے بجائے اضافہ ہوگا۔ کیوں کہ یونیورسٹی روڈ کی کھدائی کے باعث ٹریفک کا سارا بہاؤ شبیر عثمانی روڈ روڈ پر ہے۔ وسائل ضائع کرنے کے بجائے پی ایف سی کے تحت ٹاؤنز اور اضلاع کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز ٹاؤنز کو مہیا کیے جائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گلشن اقبال ٹاؤن میونسپل کارپوریشن کے کونسل ہال میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر گلشن اقبال ٹاؤن کے وائس چیئرمین ابراہیم صدیقی ۔ یوسی چیئرمین ماجد علی خان ۔ ناصر اشفاق کونسل ممبران اور یوسی وائس چیئرمین آصف عبدالکریم ، اشعر عماد ، آصف حسن، اسما طاہر صائمہ اعجاز ، کوآرڈینیٹر کامران چشتی اور تمام شعبوں کے افسران موجود تھے۔

ڈاکٹر فواد احمد نے میڈیا کے سامنے اپنی تین سال کی کارکردگی رپورٹ پیش کی ۔ اور اگلے سال کے بجٹ میں رکھے گئے منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا۔

ڈاکٹر فواد احمد نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ کو بار بار اکھاڑ کر بنایا جارہا ہے جگہ جگہ گڑھے ہیں ۔ اگر تیز بارش ہوئی تو تباہی کا خطرہ ہے۔ریڈ لائن منصوبہ گلشن اقبال کے مکینوں کے لیے مصیبت بنا ہوا ہے ۔ سارا لوڈ اطراف کی گلیوں پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈسکو بیکری کے قریب فلائی اوور کے مجوزہ منصوبے سے شہریوں کی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے ۔ ہم نے اس بارے میں میئر کراچی کو بھی آگاہ کیا ہے کہ پانی کی فراہمی کے میگا منصوبے کے 4 کی اگمینٹیش لائن شبیر عثمانی روڈ سے گزرنی ہے اس لیے فلائی اوور کے منصوبے کو منسوخ کرکے تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے۔ تو ٹریفک کی روانی بہتر ہوسکتی ہے ۔ پہلے ہی تاخیر کا شکار پیپلز پارٹی کے ترقیاتی منصوبے شہریوں کے لیے ڈراؤنا خواب بن چکے ہیں۔ اس کے بجائے ضروری ہے کہ موتی محل کے قریب راشد منہاس روڈ ٹریفک کے اژدہام کو قابو کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

ڈاکٹر فواد احمد نے کہا کہ گلشن اقبال ٹاؤن کے لیے صوبائی حکومت کے بجٹ میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ او زیڈ ٹی انتہائی کم ہونے کے باعث پہلے دو سال ہمیں ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی ٹاؤن کے اپنے وسائل سے کرنی پڑی ۔ یہ رقم ٹاؤن کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہو سکتی تھی۔

چیئرمین ڈاکٹر فواد احمد نے بتایا کہ گلشن اقبال ٹاؤن کا مالی سال 2026-27 کا مجموعی بجٹ 4 ارب 77 کروڑ 95 لاکھ روپے ہے، جس میں 75 فیصد رقم ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کی گئی ہے

انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود نمایاں ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے، جن میں دو یوتھ سینٹرز، 24 پارکس کی بحالی (جن میں 4 سے 5 پارکس مکمل طور پر کچرا کنڈی بن چکے تھے)، 40 سے زائد سڑکوں پر تقریباً 10 لاکھ اسکوائر فٹ کارپیٹنگ، 20 ہزار سے زائد اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب و بحالی، منی زو، دو ماڈل محلے، ماڈل روڈ کی تعمیر، اسکولوں کی ازسرِنو بحالی، فرنیچر کی فراہمی، طلبہ میں مفت یونیفارم اور جوتوں کی تقسیم،  شجرکاری ، دو اربن فاریسٹ کا قیام، ناکارہ مشینری کی بحالی شامل ہیں۔

ڈاکٹر فواد احمد کا کہنا تھا کہ بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کے باعث گزشتہ چھ برس سے شہری مشکلات اور حادثات کا سامنا کر رہے ہیں، مگر اب تک اس منصوبے پر مؤثر پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔

چیئرمین گلشن اقبال ٹاؤن نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے حقیقی ثمرات اسی وقت عوام تک پہنچ سکتے ہیں جب بلدیاتی اداروں کو مالی اور انتظامی اختیارات منتقل کیے جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی مالیاتی کمیشن (PFC) کو فعال کرتے ہوئے ٹاؤنز کا او زیڈ ٹی شیئر بحال کیا جائے تاکہ عوامی مسائل مقامی سطح پر حل کیے جاسکیں۔۔ انہوں نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نہ گھر گھر سے کچرا اٹھانے کا مؤثر نظام قائم ہوسکا ہے اور نہ ہی کچرے سے توانائی پیدا کرنے کے منصوبے پر خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے۔

ڈاکٹر فواد احمد نے کہا کہ 1960ء کے بعد پہلی مرتبہ گلشن اقبال میں اتنے بڑے پیمانے پر روڈ کٹنگ ہوئی ہے جس سے تمام علاقے متاثر ہوئے ہیں، تاہم سوئی گیس کی جانب سے این او سی جاری ہوتے ہی متاثرہ سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا کام شروع کردیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گلشن اقبال کو گڑھوں سے پاک سڑکوں والا ٹاؤن بنایا جائے گا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں