سندھ حکومت کا اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک کے ساتھ تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق

سندھ حکومت کا اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک کے ساتھ تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق

وزیراعلیٰ سندھ اور عالمی ادارہ خوراک پاکستان کی نمائندہ انیتا ہرش کے درمیان اعلیٰ سطح کا اجلاس

وزیراعلیٰ سندھ سندھ مراد علی شاہ اور عالمی ادارہ خوراک پاکستان کی نمائندہ انیتا ہرش کے درمیان اعلیٰ سطح کا اجلاس

اجلاس میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نجم شاہ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی، وزیراعلیٰ کے سیکریٹری آصف جمیل، سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ارشاد سوڈھڑ، ایس پی ایچ ایس کے سی ای او خالد شیخ، ڈبلیو ایف پی سندھ کے صوبائی دفتر کے سربراہ محمد الخولی، اسکول میلز سندھ کی سربراہ کیٹلن رنیان گلیس، غذائیت کی سربراہ سلمیٰ یعقوب اور پروگرام پالیسی افسر (حکومتی شراکت داری) عمر فاروق خان نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی خوراک، غذائیت، اسکول صحت اور موسمیاتی لچک مضبوط بنانے کے عزم کی تجدید

سندھ حکومت کا اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک کے ساتھ تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق

اجلاس  میں سندھ حکومت اور ڈبلیو ایف پی کے جاری تعاون اور مستقبل میں شراکت داری کے مواقع کا جائزہ

اسکول کھانوں، غذائیت، موسمیاتی لچک، پیشگی اقدامات اور سماجی تحفظ میں تعاون بڑھانے پر غور

ملاقات میں جھٹکوں سے متاثرہ خاندانوں کے لیے سماجی تحفظ اور ادارہ جاتی استعداد بڑھانے پر بھی گفتگو کی گئی۔سندھ پائیدار اسکول کھانا پروگرام اجلاس میں خصوصی توجہ کا مرکز رہا، اہم پیش رفت کا جائزہ۔سندھ پائیدار اسکول کھانا پروگرام کے لیے امریکی محکمہ زراعت کی تقریباً 80 ملین ڈالر گرانٹ فراہم کی گئی۔پروگرام کے تحت سندھ کے پانچ اضلاع کے 1336 سرکاری اسکولوں میں ڈھائی لاکھ طلبہ مستفید ہوں گے۔پانچ اضلاع میں کیماڑی، ملیر، سجاول، ٹھٹھہ اور ٹنڈو محمد خان شامل ہیں۔ڈبلیو ایف پی کیماڑی اور ملیر جبکہ سیو دی چلڈرن انٹرنیشنل سجاول، ٹھٹھہ اور ٹنڈو محمد خان میں پروگرام نافذ کرے گا۔پروگرام میں اسکولوں میں کھانوں کے ساتھ واش سہولیات کی بحالی اور غذائیت سے متعلق تعلیم بھی شامل۔غذائی تحفظ، خوراک کی صفائی، خواندگی میں بہتری اور بچوں کے تحفظ کی سرگرمیاں بھی پروگرام کا حصہ

کیماڑی اور ملیر میں ڈبلیو ایف پی کا حصہ 614 اسکولوں اور تقریباً ایک لاکھ طلبہ کا احاطہ کرے گا۔ڈبلیو ایف پی کی جانب سے پروگرام کی پانچ سالہ مدت میں کیماڑی اور ملیر کا احاطہ کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ کو مفاہمت کی یادداشت، نگرانی کمیٹیوں اور مستحق اسکولوں کے انتخاب سمیت پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔کچن کی تعمیر کے مقامات کی منظوری، بنیادی سروے اور عملدرآمد کے انتظامات پر بھی بریفنگ دی گئی

اجلاس میں بینظیر نشونما پروگرام کے لیے ڈبلیو ایف پی کی جاری معاونت کا بھی جائزہ لیا گیا۔زچگی اور بچوں کی غذائیت، شدید غذائی قلت کے کمیونٹی انتظام اور موسمیاتی لچک پروگرام بھی زیرغور آئے۔موسمیاتی خطرات سے متاثرہ کمزور آبادی کے تحفظ کے لیے پیشگی اقدامات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی

سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی اور ڈبلیو ایف پی میں حکومت کی زیرقیادت پیشگی اقدامات پروگرام پر تعاون زیرغور آیا۔سیلاب، خشک سالی اور دیگر موسمیاتی ہنگامی حالات سے پہلے کمزور خاندانوں کو بروقت مدد دینے پر توجہ

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے خوراک، غذائیت اور انسانی سرمائے کی ترقی کو پائیدار ترقی کا بنیادی ستون قرار دیا

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ پائیدار اسکول کھانا پروگرام صرف خوراک کی فراہمی نہیں بلکہ بچوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے،غذائی قلت سے نمٹنے اور اسکول حاضری بہتر بنانے سے صحت مند اور خوشحال سندھ کی بنیاد رکھی جارہی ہے۔وزیراعلیٰ نے غذائیت، موسمیاتی لچک، آفات سے تیاری اور سماجی تحفظ میں ڈبلیو ایف پی کے تعاون کو سراہا،۔سندھ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ خطوں میں شامل، فعال اور پیشگی نظام ناگزیر ہیں۔

مراد علی شاہ نے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات اور مؤثر سماجی تحفظ پر زور دیا

وزیراعلیٰ کا صوبے بھر میں موسمیاتی لچک اور پیشگی اقدامات کے طریقہ کار کو ادارہ جاتی بنانے کا عزم ۔مراد علی شاہ نے حکومتی نظام مضبوط بنانے اور جامع اسکول صحت و غذائیت پالیسی بنانے پر زور دیا

اضافی اضلاع تک اسکول کھانا پروگرام کی توسیع اور غذائیت، واش، تعلیم، سماجی تحفظ یکجا کیا جائے، وزیراعلیٰ

ڈبلیو ایف پی پاکستان کی نمائندہ انیتا ہرش نے سندھ حکومت کی قیادت اور عزم کو سراہا

انیتا ہرش نے کہا کہ سندھ پائیدار اسکول میل پروگرام کو غذائیت، تعلیم، صحت اور مقامی اقتصادی ترقی کا امتزاج ہیں،  ڈبلیو ایف پی کا  سندھ حکومت کے ساتھ پائیدار نظام کی تعمیر میں شراکت داری جاری رکھنے کے عزم کا اظہار،ڈبلیو ایف پی کی عالمی حکمت عملی حکومتی اداروں کو مضبوط اور لچکدار نظام بنانے پر مرکوز ہے، ڈبلیو ایف پی کا مقصد ہنگامی ردعمل کے ساتھ مستقبل کی انسانی ضروریات کم کرنے والے حکومتی حل مضبوط کرنا ہے،ڈبلیو ایف پی نے سندھ میں اسکول میل، غذائیت، پیشگی اقدامات، خوراکی نظام اور سماجی تحفظ میں تعاون کے مواقع بتائے۔

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے تعلیم اور صحت خدمات سے غذائیت کو جوڑنے کی اہمیت اجاگر کی

ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ غذائی قلت بچوں اور ماؤں کو درپیش سنگین چیلنجز میں سے ایک ہے، پہلے ایک ہزار دن اور ابتدائی بچپن میں سرمایہ کاری کے دیرپا فوائد سامنے آتے ہیں۔ بینظیر نشونما اور اسکول میل پروگرام بچوں کی غذائیت بہتر اور کم قدی میں کمی لارہے ہیں۔محکمہ صحت سندھ غذائیت، ماں اور بچے کی صحت اور کمیونٹی بنیادوں پر کام جاری رکھے گا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں