منگھوپیر ٹاؤن میں انسدادِ پولیو کی ایس این آئی ڈی مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا
کراچی: منگھوپیر ٹاؤن میں بچوں کو موذی مرض پولیو سے محفوظ رکھنے اور اس کے مکمل سدباب کے لیے انسدادِ پولیو کی ایس این آئی ڈی (SNID) مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔ اس سلسلے میں پیر کے روز منعقدہ افتتاحی تقریب میں ڈپٹی کمشنر ضلع غربی ذوالفقار علی میمن ، چیئرمین منگھوپیر ٹاؤن حاجی نواز علی بروہی، اسسٹنٹ کمشنر منگھوپیر سریش، میونسپل کمشنر منگھوپیر ملک مجتبیٰ ایاز اور پولیو فوکل پرسن دانیال حسین نے شرکت کی۔ تقریب میں یونین کمیٹی 3 کے چیئرمین، وائس چیئرمین سمیت ٹاؤن کے متعلقہ افسران اور عملے کے ارکان بھی موجود تھے۔ اس موقع پر معزز مہمانوں نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلا کر مہم کا باضابطہ آغاز کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین منگھوپیر ٹاؤن حاجی نواز علی بروہی نے کہا کہ بچوں کی صحت و سلامتی کا تحفظ اور انہیں عمر بھر کی معذوری سے بچانا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ پولیو کا خاتمہ محض ایک مہم نہیں بلکہ ہماری اجتماعی قومی ذمہ داری ہے، جس کی تکمیل کے لیے حکومت، انتظامیہ، محکمہ صحت اور عوام کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ منگھوپیر ٹاؤن کی تمام یونین کمیٹیوں میں انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے مؤثر اقدامات اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام کیا جائے گا، تاکہ پانچ سال سے کم عمر کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہ جائے۔
حاجی نواز علی بروہی نے مزید کہا کہ پولیو کے خلاف جنگ میں کامیابی عوامی تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ والدین اپنے بچوں کو ہر انسدادِ پولیو مہم کے دوران لازمی طور پر حفاظتی قطرے پلوائیں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ منگھوپیر ٹاؤن سے پولیو کے مکمل خاتمے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی اور اس قومی مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون اور عملی اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ویسٹ ذوالفقار علی مہمند اور دیگر متعلقہ افسران نے بھی انسدادِ پولیو مہم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کے عمل کو ہر سطح پر یقینی بنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مہم کے دوران مؤثر نگرانی، عوامی آگاہی اور تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط رابطہ کاری بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے والدین، اساتذہ، علمائے کرام اور معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی گئی کہ وہ اس قومی فریضے کی ادائیگی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں، پولیو ٹیموں سے تعاون کریں اور اپنے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں۔ بچوں کو اس مہلک مرض سے محفوظ بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند، محفوظ اور پولیو سے پاک مستقبل فراہم کیا جا سکے۔
