سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن کی تاریخی کارروائی، نادہندہ ادارے سے 41 ملین روپے واجبات کی وصولی
ڈائریکٹر وسیم جمال اور ڈائریکٹر لانڈھی ڈائریکٹوریٹ قطب الدین نے لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت واجبات کی وصولی کے عمل کو خوش اسلوبی کے ساتھ یقینی بنایا
کراچی: سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (SESSI) نے نادہندہ اداروں سے واجبات کی وصولی کے حوالے سے ایک مہم کا آغاز کردیا ہے، اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت حاصل ہوئی ہے اور 41 ملین روپے کی ریکارڈ وصولی کی گئی ہے، جسے ادارے کی موجودہ تاریخ میں ایک نمایاں پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق لانڈھی ڈائریکٹوریٹ میں رجسٹرڈ ایک معروف پاکستانی ٹیکسٹائل کمپنی کے ذمہ سوشل سیکیورٹی کنٹری بیوشن کی مد میں 41 ملین روپے واجب الادا تھے۔ ان واجبات کی وصولی کے لیے لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی، جس کے نتیجے میں نوٹس کی مکمل رقم وصول کر لی گئی۔
یہ کارروائی ڈائریکٹر کنٹری بیوشن اینڈ بینیفٹ (C&B) وسیم جمال اور ڈائریکٹر لانڈھی ڈائریکٹوریٹ قطب الدین نے انتہائی خوش اسلوبی سے انجام دی۔ سوشل سیکورٹی حکام کے مطابق لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت اس نوعیت کی واجبات کی وصولی نہ صرف SESSI بلکہ ملک کے سماجی تحفظ کے اداروں کے لیے بھی ایک اہم مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔
ادارے کے مطابق حالیہ مہینوں میں کنٹری بیوشن ونگ میں متعدد اصلاحاتی اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں، جن کے مثبت نتائج سندھ بھر کے ڈائریکٹوریٹس میں نمایاں طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ نادہندہ اداروں کی نشاندہی، قانونی کارروائی اور واجبات کی مؤثر وصولی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے، جس سے ریونیو میں بہتری اور ادارہ جاتی کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے۔
ترجمان کے مطابق موجودہ کمشنر SESSI ہادی بخش کلہوڑو نے اپنی تعیناتی کے بعد واجبات کی مؤثر وصولی کو ترجیح دیتے ہوئے محکمہ ریونیو کے سینئر افسران کے ذریعے SESSI کے ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز کو لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت کارروائی کے طریقہ کار کی خصوصی تربیت فراہم کروائی۔ اس تربیت کے نتیجے میں فیلڈ افسران کی قانونی استعداد میں اضافہ ہوا اور نادہندہ اداروں سے واجبات کی وصولی کے عمل کو مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جا سکا۔
سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ادارہ آئندہ بھی قانون کے مطابق نادہندہ اداروں سے واجبات کی وصولی کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے گا تاکہ محنت کشوں کو سوشل سیکورٹی کی سہولیات کی فراہمی کے لیے مالی وسائل کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
