سندھ بھر میں ایچ ٹی وی اور ایل ٹی وی ڈرائیور ٹریننگ اسکول قائم کرنے کی منظوری
وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی بورڈ کا 50 واں اجلاس
کراچی: اجلاس میں صوبائی وزراء؛ سردار شاہ، جام خان شورو، ضیاء الحسن لنجار، مشیر بابل بھیو، معاونِ خصوصی قاسم نوید، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن اور دیگر حکام کی شرکت
تعلیم، ٹرانسپورٹ، قدرتی ماحولیاتی سیاحت اور صنعتی ترقی کے متعدد منصوبوں کی منظوری دی گئی جبکہ ثانوی تعلیم، خصوصی ڈرائیور ٹریننگ اور جنگلاتی سیاحت میں پی پی پی ماڈل کو وسعت دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
سندھ بھر میں ایچ ٹی وی اور ایل ٹی وی ڈرائیور ٹریننگ اسکول قائم کرنے کی منظوری دی گئی جبکہ موٹر وہیکلز ترمیمی ایکٹ 2025ء کے تحت پری لائسنس ٹریننگ لازمی قرار دے دیا گیا۔
ڈرائیور ٹریننگ منصوبہ:
بیرونِ ملک ڈرائیوروں کی بڑھتی طلب، سندھ حکومت کا نیا تربیتی منصوبہ
اجلاس کو آگاہی میں بتایا گیا کہ یورپ، آسٹریلیا، چین ترکی اور خلیجی ممالک میں ڈرائیوروں کی مانگ بڑھ رہی ہے، پاکستان کا ٹرانسپورٹ شعبہ جی ڈی پی میں 10 تا 13 فیصد حصہ ڈالتا ہے ۔ملک بھر میں 41 لاکھ سے زائد افراد کو ٹرانسپورٹ شعبہ کے ذریعے روزگار فراہم ہوتا ہے۔گزشتہ سال پاکستان نے باضابطہ طور پر 1 لاکھ 63 ہزار ڈرائیور برآمد، سندھ کا حصہ صرف 2 فیصد رہا۔
وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ عالمی سطح پر سندھ کے نوجوانوں کو ڈرائیورز کی بڑھتی طلب سے فائدہ اٹھانا ہوگا، تصدیق شدہ پری لائسنس ٹریننگ کے بغیر ڈرائیونگ لائسنس جاری نہیں ہوگا۔منصوبہ عالمی سطح پر ڈرائیورز کی بڑھتی طلب کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہی دی گئی کہ ٹریننگ مراکز اسٹیوٹا کے چار اداروں میں قائم کیے جائیں گے، گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی سائٹ کراچی میں بھی ٹریننگ سینٹر قائم ہوگا۔دادو، سکھر اور نوشہرو فیروز میں بھی ڈرائیور ٹریننگ مراکز قائم کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ نوجوانوں کو عالمی معیار کی ڈرائیونگ تربیت دے کر بیرونِ ملک روزگار کے مواقع فراہم کریں گے،
کراچی میں بڑھتی طلب کو پورا کرنے کیلئے بڑے ٹریننگ مراکز قائم کرنے کا فیصلہ
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ٹریننگ مراکز میں سیمولیٹرز، تھیوری لیبز اور آن روڈ ٹریننگ کی سہولیات فراہم کی جائیں۔
پانچ سال میں ایک لاکھ ڈرائیورز کو تربیت اور لائسنس جاری کرنے کا ہدف ہے، بریفنگ
