وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (کے سی سی آئی) وفد نے ملاقات کی جس میں کے سی سی آئی وفد میں انجم نثار، جاوید بلوانی، میاں ابرار، اے قیو خلیل، ضیاء العارفین اور میاں فیصل شریک تھے۔
وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ صوبائی وزراء، شرجیل میمن، جام اکرام اللہ دھاریجو، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، سیکریٹری توانائی، چیئرمین پی اینڈ ڈی، سیکریٹری ٹو سی ایم، صنعت، بلدیات، ٹرانسپورٹ اور صحت کے سیکریٹریز اور ایڈیشنل آئی جی پولیس جاوید عالم اوڈھو اجلاس میں موجود تھے۔
کے سی سی آئی وفد نے امن امان، یوٹیلیٹیز، انفرااسٹیکچر اور پبلک ٹرانسپورٹ کے مسائل کی نشاندہی کی
تاجروں نے شہر میں ٹریفک کے نظام اور روڈ نیٹورک کو بہتر کرنے کی تجاویز دیں۔ تاجر وفد کا کہنا تھا کہ صنعتی علاقے پانی، گیس اور مہنگی بجلی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ صنعتکاروں کے تمام مسائل حل کیئے جائیں، وہ مسائل جو سندھ حکومت کے ماتحت ہیں وہ فوری حل کیئے جائینگے۔صنعتکاروں کے جو مسائل وفاقی حکومت کے ماتحت ہیں ان کے حل کے لیئے کوشش کرونگا۔
سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ آرٹس کونسل میں ورلڈ ثقافتی فیسٹیول جاری ہے،عالمی ثقافتی فیسٹیول میں 44 ممالک سے فنکار حصا لے رہے ہیں،شہر کراچی میں امن امان کی صورتحال کافی بہتر ہے۔امن امان کو بہتر بنانے کے لیئے بزنس کمیونٹی کے ساتھ پولیس کے روابط بڑھائینگے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ پرانے موبائل کی فروخت پر حکومت ضابطہ لا رہی ہے،وہ سڑکیں جو بارشوں میں خراب ہوئی تھیں ان کا پچ ورک شروع کیا ہے۔سندھ کو اپنے حصے کی گیس ملنی چاہئے تاکہ صنعتیں ترقی کریں،کراچی زیادہ ٹیکس اس لیئے دیتا ہے کہ شہر میں کاروبار کے مواقع زیادہ ہیں۔
