مورو میں پولیس کے خلاف احتجاج،خواتین کو گرفتاری کے بعد گم کرنے کا الزام

مورو: سندھ کے ضلع نوشہروفیروز کی تحصیل مورو میں کورائی برادری کی جانب سے خواتین سمیت ایک نوجوان کو مبینہ گم کرنے پر پولیس کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

مسمات شبیراں، واجد مصطفی کورائی، ہارون کورائی، اصغر کورائی، شرف الدین، طارق کورائی کی قیادت میں مظاہرین نے پریس کلب کے سامنے پولیس کے خلاف نعرے بھی لگائے

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی نواب شاہ تنویر احمد تنیو کورائی برادری کے ساتھ ناانصافی اور ظلم کر رہے ہیں۔ بغیر کسی وجہ کے پولیس نے ہمارے گھروں میں گھس کر چادر او چودیواری کا تقدس پامال کیا

مظاہرین کا کہنا تھا کہ سات روز قبل پولیس ہماری دو خواتین شبانہ، سمیرا اور ایک 16 سالہ مزدور صمد کورائی کو ساتھ لے گئی جن کے بارے میں کچھ بتایا بھی نہیں جارہا۔

مسمات شبیراں، واجد مصطفی کورائی، ہارون کورائی، اصغر کورائی، شرف الدین، طارق کورائی و دیگر کا کہنا تھا کہ جمالی برادری کے قتل سے ہمارہ کوئی تعلق نہیں،لاپتہ خواتین اور نوجوان کو آزاد کرکے انصاف فراہم کیا جائے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں