پاکستان نے سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کا عمل دوبارہ شروع کر دیا

پاکستان نے سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کا عمل دوبارہ شروع کر دیا

پاکستان نے تقریباً 2  دہائیوں بعد سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کا عمل دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

تیل و گیس کیلئے کمپنیوں کے ساتھ پرو ڈکشن شیئرنگ معاہدے اور ایکسپلوریشن لائسنسزکے اجرا کا سلسلہ مکمل ہوگیا۔ جس کے بعد  پاکستان نے تقریباً 2 دہائیوں بعد سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کا عمل دوبارہ شروع کر دیا۔

ابتدا میں 8 کروڑ 20 لاکھ ڈالر جبکہ ڈرلنگ تک پیش رفت کی صورت میں مجموعی سرمایہ کاری تقریباً1 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے ۔

پیٹرولیم ڈویژن کے اعلامیے کے مطابق ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کو تیل و گیس کی تلاش کیلئے انڈس اور مکران آف شور بیسنز میں بلاکس الاٹ کردیے گئے ۔آف شور بڈ راؤنڈ 2025 میں 54 ہزار 600 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط 23 بلاکس کی منظوری دی گئی ۔ ماری انرجیز نے 18 جبکہ او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کو 8  ایکسپلوریشن بلاکس الاٹ ہوئے ۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے معاہدوں پر دستخط کوحکومت کی توانائی پالیسی میں تاریخی سنگِ میل قرار دیا ہے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں