وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا جواز سپریم کورٹ کی اپنی ماضی کی تاریخ ہے،کراچی بدامنی کیس 2011 سے اب تک چل رہا ہے،کبھی واٹر کمیشن بن جاتا ہے، واٹر کمیشن وہاں بھی جاتا ہے جہاں پانی ہی نہیں، آئینی عدالت کے سربراہ کی مدت 3 سال ہوگی، فوجی عدالتوں کے قیام کے حق میں نہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 25 اکتوبر سے پہلے ترامیم ہوجائیں تو معاملہ پر امن طور پر حل ہوجائے گا، بعد میں بھی ہوسکتی ہیںی لیکن آمنے کی صورتحال ہوسکتی ہے۔
اسلام آباد: میں سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کے وفد نے زرداری ہاؤس میں بلال بھٹو زرداری سے ملاقات کی۔
اس موقعے پر آئینی عدالت اور عدالتی اصلاحات سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ بانی پی ٹی آئی کے ملٹری ٹرائل کے حق میں ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے جواب دیا کہ ابھی دیکھنا ہے شواہد کیا ہیں،ویسے بھی صدارتی معافی کا اختیار ہمارے پاس ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی سزائے موت کے خلاف ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا جواز سپریم کورٹ کی اپنی ماضی کی تاریخ ہے،کراچی بدامنی کیس 2011 سے اب تک چل رہا ہے،کبھی واٹر کمیشن بن جاتا ہے، واٹر کمیشن وہاں بھی جاتا ہے جہاں پانی ہی نہیں، آئینی عدالت کے سربراہ کی مدت 3 سال ہوگی، فوجی عدالتوں کے قیام کے حق میں نہیں۔
