پنجاب اور سندھ کے بھٹہ مزدوروں کی صورتحال پر رپورٹ کا اجراء
اسلام آباد: نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف دی چائلڈ (NCRC) نے کمیونٹی ورلڈ سروس ایشیا (CWSA) اور نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن (NLD) کے اشتراک سے ”پنجاب اور سندھ میں بھٹہ مزدوروں کی صورتحال کا تجزیہ“ کے عنوان سے رپورٹ جاری کئی گئی ہے۔
تقریب میں وزیرِ مملکت برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی،جناب کھیل داس کوہستانی، ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی انتھونی نوید، وزیرِ اعلیٰ سندھ کے معاونِ خصوصی برائے انسانی حقوق راج ویر سنگھ سوڈھا، معاونِ خصوصی برائے اقلیتی امور ڈاکٹر شام سندر ایڈوانی، پارلیمانی سیکریٹری برائے انسانی حقوق و اقلیتی امور پنجاب سونیا آشِر، سیکریٹری انسانی حقوق و اقلیتی امور پنجاب ڈاکٹر عثمان علی خان، ڈائریکٹر جنرل لیبر ویلفیئر پنجاب سیدہ کلثوم حئی، کمشنر سندھ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن ہادی بخش کلہوڑو، ڈائریکٹر سیسی وسیم جمال، ڈائریکٹر پنجاب ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن ملک فرخ، چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو و ایم پی اے سارہ احمد، چیئرمین ون مین کمیشن ڈاکٹر شعیب سڈل، وزیرِ اعلیٰ سندھ کے پبلک کمپلینٹ سیل کے معاونِ خصوصی ویر جی کوہلی، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال پنجاب محمد شاہد رانا، لاء آفیسر لیبر ڈیپارٹمنٹ سندھ رجومل اور NCHR کے نمائندے منظور مسیح سمیت NCRC، NCSW، پاکستان ورکرز فیڈریشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ CWSA کی جانب سے ایسوسی ایٹ ریجنل ڈائریکٹر مصباح خالد سمیت دیگر نمائندگان بھی موجود تھے۔
رپورٹ میں بھٹہ مزدوروں اور ان کے خاندانوں کو درپیش اہم مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں غربت، چائلڈ لیبر، جبری مشقت، کم از کم اجرت، سماجی تحفظ تک محدود رسائی، صنفی عدم مساوات، ذات کی بنیاد پر امتیاز اور تعلیم و بنیادی سہولیات تک رسائی میں رکاوٹیں شامل ہیں۔
NCRC کی چیئرپرسن عائشہ رضا نے بچوں کو کم عمری میں بھٹوں پر کام کرنے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بچوں کو مزدوری سے محفوظ رکھنے اور ان کی تعلیم یقینی بنانے کو قومی ترجیح قرار دیا۔
CWSA کی ایسوسی ایٹ ریجنل ڈائریکٹر مصباح خالد نے کہا کہ بھٹہ مزدوروں کی محرومیوں کا خاتمہ کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ حکومت، سول سوسائٹی، مزدوروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔
شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ صرف قانون سازی کافی نہیں بلکہ قوانین پر مؤثر عمل درآمد، مزدوروں کی رجسٹریشن، نگرانی، ادارہ جاتی جواب دہی اور سیاسی عزم بھی ضروری ہے۔ پاکستان ورکرز فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری اسد محمود نے رپورٹس اور وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات اور مزدوروں کی اجرت و کام کے حالات میں قابلِ پیمائش بہتری پر زور دیا۔
تقریب سے ڈاکٹر شعیب سڈل، ویر جی کوہلی، سیدہ کلثوم حئی، محمد شاہد رانا اور راج ویر سنگھ سوڈھا سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور بھٹہ مزدوروں کے حقوق کے مؤثر تحفظ، قوانین کے نفاذ، رجسٹریشن، سماجی تحفظ اور بنیادی سہولیات تک رسائی کی ضرورت پر زور دیا۔
رپورٹ کو بھٹہ مزدوروں کے حالاتِ کار و زندگی کو سمجھنے اور آئندہ کی پالیسی سازی، قانون سازی اور ہدفی اقدامات کے لیے ایک اہم شواہد پر مبنی دستاویز قرار دیا گیا۔
CWSA کی پروگرام کوآرڈینیٹر فضا حسین نے اختتامی کلمات میں سرکاری اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں، مزدور تنظیموں، سول سوسائٹی، آجرین اور متاثرہ کمیونٹیز کے درمیان مزید مؤثر تعاون پر زور دیا، تا کہ بھٹہ مزدور اپنے بنیادی حقوق سے مستفید ہوں اور بچوں کو مزدوری سے محفوظ رکھتے ہوئے انہیں تعلیم اور باوقار مستقبل کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
