ریونیو کا موجودہ نظام فرسودہ ہوچکا ہے: کمشنر کراچی سید حسن نقوی

ریونیو کا موجودہ نظام فرسودہ ہوچکا ہے: کمشنر کراچی سید حسن نقوی

کراچی: کمشنر کراچی سید حسن نقری نے کہا کہ کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ زمین ہے،1953 کے بعد کراچی کا ماسٹر پلان نہیں بنا،15 سال قبل زمینوں کی ایلوکیشن (منتقلی) پر پابندی لگائی گئی جس سے مسائل پیدا ہورہے ہین، پٹواری،مختار کار اور تپے دار کا نظام ٹھپ ہوچکا ہے،اسے اپ گریڈ کرنا ہوگا،چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے کہا کہ تعمیراتی صنعت معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے،تعمیراتی شعبے کے فروغ کے لیے امن وامان کی صورتحال کو یقینی بنانا ہوگا۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے کہا کہ آباد کی شکایات پر 5 بھتہ خوروں کے ریڈ وارنٹ جاری کروائے،کراچی کے امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔وہ آباد ہاﺅس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے۔

اس موقع پر آباد کے سابق چیئرمین محسن شیخانی، سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمدی،وائس چیئرمین طارق عزیز،چیرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوری،مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز،ایس ایس پیز اور آباد ممبران کی بڑی تعداد موجود تھی۔

کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے مزید کہا ہے کہ زمینوں کے معاملے پر ایوب خان کے دور میں قانون بنایا گیا تھا جبکہ تقریباً 15 سال قبل زمینوں کی الاٹمنٹ پر پابندی عائد کردی گئی، مگر الاٹمنٹ کے معاملے پر کسی نے آواز نہیں اٹھائی۔ انھوں نے کہا کہ زمین کی منتقلی کے معاملے کو سنجیدگی سے لینے اور اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ صورتحال میں زمین کی منتقلی کا عمل آسان نہ ہونے کے باعث مسائل پیدا ہورہے ہیں۔سید حسن نقوی نے ریونیو کے اداروں اور افسران کی کارکردگی پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریونیو کا موجودہ نظام فرسودہ ہوچکا ہے۔ سندھ اور پنجاب میں زمین کے ریکارڈ کی آٹومیشن کا عمل بیک وقت شروع کیا گیا تھا، تاہم پنجاب نے آٹومیشن کا مرحلہ مکمل کرلیا جبکہ سندھ میں زمینوں کی آٹومیشن کا منصوبہ خامیوں کا شکار ہے اور اسے دوبارہ کرنے کی ضرورت ہے۔کمشنر کراچی نے کہا کہ مختار کار اور دیگر متعلقہ افسران کے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے تو صورتحال میں نمایاں بہتری آسکتی ہے۔کراچی میں زمین کے استعمال کا مسئلہ طویل عرصے سے موجود ہے۔انھوں نے آباد کی جانب سے مسائل کے حل کے لیے مو ¿ثر آواز اٹھانے کو سراہتے ہوئے کہا کہ آباد نے اپنے مسائل کے حوالے سے مو ¿ثر انداز میں آواز بلند کی ہے، تاہم اب بھی 70 سے 80 فیصد کیسز حل طلب ہیں۔ آباد، نجی شعبے اور انتظامیہ کے درمیان ایک لنک اور ہاٹ لائن قائم ہوچکی ہے، جس سے مسائل کے حل میں مدد مل رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ اور پولیس کے درمیان بہترین تعلق قائم ہوچکا ہے، پولیس اور ڈپٹی کمشنرز ایک ٹیم کے طور پر کام کررہے ہیں اور اب اہم واقعات میں پولیس اور انتظامیہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ چیئرمین ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) محمد حسن بخشی نے کہا ہے کہ آباد ہاو ¿س میں کراچی کی تمام ایڈمنسٹریشن موجود ہے، شکایات کے ازالے کیلیے بنائی گئی کمپلینٹ ویریفکیشن کمیٹی کے اب تک 25 سے 26 اجلاس منعقد ہوچکے ہیں، کمیٹی کے سربراہان بہترین انداز میں کام کررہے ہیں۔ کمیٹی کا مقصد بلڈرز کے حالات اور کاروبار کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ محمد حسن بخشی نے کہا کہ کمپلینٹ ویریفکیشن کمیٹی بلاول زرداری کی ہدایت پر قائم کی گئی تھی، جس کے اجلاسوں کی سربراہی کمشنر کراچی خود کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آباد کے بعض ممبران کی شکایات اور مسائل موجود ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے لیے جتنے تکلیف دہ مسائل ہیں، افسران بھی ان کے حل کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ لوئر پولیس کلچر کا نظام ایک بڑا چیلنج ہے، اس مشکل صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام اداروں کو باہمی رابطے اور کوآرڈینیشن کے ذریعے کام کرنا ہوگا۔ آباد ایک ووکل اور درست بات کرنے والی تنظیم ہے اور اپنے ممبران کے مسائل کے ساتھ عوامی مفادات کیلئے بھی آواز بلند کرتی ہے۔محمد حسن بخشی نے کہا کہ آباد کی کاوشوں کے باعث آج وفاقی اور صوبائی حکومتوں تک ہماری آواز پہنچتی ہے، جبکہ عوامی مفادات کے حوالے سے فیلڈ مارشل تک بھی پیغامات بھیجتا رہتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ بہت سے لوگ عدلیہ سے متعلق مسائل کا بھی سامنا کررہے ہیں، جن کے حل کیلئے مو ¿ثر اقدامات کی ضرورت ہے۔چیئرمین آباد نے کہا کہ پبلک سیل پروجیکٹس کیلیے ایک ہزار 33 عمارتوں کی منظوری دی گئی، جبکہ وزیراعلیٰ کی رپورٹ کے مطابق 90 ہزار عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ باقی تقریباً 80 ہزار عمارتیں کیسے تعمیر ہوئیں اور ان کے اپروول کس طرح ہوئے؟ انھوں نے کہا کہ ان عمارتوں میں نہ معیاری سریا استعمال کیا جاتا ہے اور نہ ہی ماہرین کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں، جو شہریوں کی جان و مال کیلئے خطرناک صورتحال پیدا کرسکتا ہے۔

اس موقع پر ایڈشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے کہا کہ بھتہ خوروں کے خاتمے کےلیے موثر حکمت عملی بنارہے ہیں۔انتظامیہ اور پولیس مل کر بلڈرز کے مسائل حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہتر رکھنا ترجیح ہے۔ آباد کی جانب سے بھتہ خوری کی سب سے زیادہ شکایات موصول ہوئی ہیں، جن پر پولیس نے بھرپور کارروائی کی۔انھوں نے بتایا ککہ جدید ایپلی کیشنز کے ذریعے موصول ہونے والی بھتہ خوروں کی کالز کی لوکیشن معلوم کرنا سب سے مشکل مرحلہ تھا، تاہم پولیس ٹیم ہر شکایت پر مو ¿ثر انداز میں کام کررہی ہے۔ آباد کی شکایات پر بھتہ خوروں کے ریڈ وارنٹ بھی جاری کیے گئے جبکہ بھتہ خوری میں ملوث 40 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

آزاد خان نے کہا کہ بلڈرز کا کام رکنے کا مطلب معیشت کا پہیہ رکنا ہے، کیونکہ تعمیراتی شعبہ روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔ ماضی کی نسبت بھتہ خوری اور قبضوں کی شکایات میں کمی آئی ہے۔ کراچی پورے ملک کی معیشت کو چلاتا ہے، امن و امان مزید بہتر بنائیں گے۔اس موقع پر محسن شیخانی نے کہا کہ آباد کے ممببر بلڈرز کام کرنا چاہتے ہیں ان کےلیے بے شمار مسائل ہیں ۔بلڈرز کی زمینوں پر فائرنگ کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ہم جہاں کنسٹرکشن کرتے ہیں سب سے پہلے وہاں پولیس موبائل آجاتی ہیں۔ جب تک زمینوں کے ریکارڑ ڈیجیٹلائز نہیں ہوگا مسئلے پیدا ہوتے رہیں گے ۔ آباد کے سابق چیئرمین محمد حنیف گوہر نے کہا کہ زمینوں کے مسائل کی وجہ گورنمنٹ لینڈز کے باعث ہے،ان زمینوں کی قانونی طور پر نیلامی یقینی بنائی جائے،گورنمنٹ لینڈز کی نیلامی سے مسائل کافی حد تک کم ہوں گے ،زمینوں پر تعمیرات ہوں گی تو ریوینیو میں بھی اضافہ ہوگا اور زمینوں کی دو نمبری جعالی دستاویزات بنانے کا سلسلہ بھی ختم ہوگا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں