ایس ایس جی سی نے 400 غیرقانونی گیس کنکشن منقطع کر دیے
سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) سندھ اور بلوچستان میں اپنے فرنچائز علاقوں میں گیس چوری کے ناسور کے خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔
کراچی اور دیگر علاقوں میں گیس چوری کے خلاف جاری وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن کے دوران اسپیشل سیکیورٹی اینڈ کاؤنٹر گیس تھیفٹ آپریشنز (SS&CGTO)، کسٹمر ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ (CRD) تھیفٹ سیکشن، ڈسٹری بیوشن ڈیپارٹمنٹ، ایس ایس جی سی پولیس اور مقامی پولیس نے کراچی ریجن کے مختلف مقامات پر متعدد چھاپے مارے اور گیس چوری میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائیاں کیں۔
گیس چوری کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت ٹیم نے حال ہی میں کچا روڈ، مسجد علی مرتضیٰ کے سامنے، نیپا فلائی اوور کے قریب، بلاک 11، بینظیر آباد میں ایک کارروائی کے دوران بڑے پیمانے پر گیس چوری کے نیٹ ورک کا انکشاف کیا۔ ملزمان نے ایس ایس جی سی کی 2 انچ قطر کی ہائی پریشر گیس پائپ لائن میں 1 انچ ملر-ٹی (Muller-T) پلاسٹک پائپ کے ذریعے براہِ راست غیرقانونی کنکشن لگا رکھا تھا، جس کے ذریعے تقریباً 400 گھروں کو چوری شدہ قدرتی گیس فراہم کی جا رہی تھی۔
کارروائی کے دوران گیس چوری میں استعمال ہونے والی تقریباً 20 فٹ طویل 2 انچ پائپ بطور ثبوت قبضے میں لے لی گئی، جبکہ غیرقانونی کنکشن موقع پر ہی منقطع کر دیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزمان ہر گھر سے غیرقانونی گیس کنکشن فراہم کرنے کے عوض 20 ہزار روپے ایڈوانس وصول کرتے تھے، جبکہ چوری شدہ قدرتی گیس کی مسلسل فراہمی کے لیے 2 ہزار 500 روپے ماہانہ بھی وصول کیے جاتے تھے۔
اس معاملے میں محمد شکیل ولد خدا بخش، ایاز احمد ولد غلام قادر، اور رشید احمد ولد ملک حاجی کے خلاف مقدمہ (FIR) درج کر لیا گیا ہے، جبکہ ان کے خلاف متعلقہ مالی دعوے (Claims) بھی دائر کیے جائیں گے۔
گیس چوری معاشرے کے خلاف ایک سنگین جرم ہے، اور ایس ایس جی سی اس امر کا اعادہ کرتی ہے کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث تمام عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
ایس ایس جی سی اپنے معزز صارفین سے اپیل کرتی ہے کہ وہ گیس چوری کے واقعات کی اطلاع کمپنی کی ہیلپ لائن 1199، موبائل ایپ "SSGC Customer Connect”، کسٹمر فیسیلیٹیشن سینٹرز یا کمپنی کے کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے دیں، تاکہ اس قومی نقصان کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
