کے ایم سی کا 60 ارب روپے سے زائد کا بجٹ منظور

میئر کراچی مرتضی وہاب نے بجٹ سال 2026__2027 پیش کیا جس کی ایوان نے منظوری دی

میئر مرتضی وہاب نے کے ایم سی کا 60 ارب روپے سے زائد کا بجٹ منظور کیا۔

بجٹ خطاب میں میئر کراچی مرتضی وہاب نے کہا کہ کے ایم سی نے بہت کم عرصے میں تاریخی کام کیے ہیں۔

میئر کراچی مرتضی وہاب نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے رواں مالی سال کے دوران جہاں ترقیاتی کام انجام دیئے وہاں ملازمین کی فلاح و بہبود کو بھی مد نظر رکھا.بلدیہ عظمیٰ کراچی نے پچیس سال کے بعد ایک تاریخی اور بے مثال کارنامہ یہ انجام دیا کہ ملازمین کی تنخواہیں اب ہر ماہ کی پہلی تاریخ سے قبل ادا کردی جاتی ہیں۔ محکمہ فنانس میں آنے والے عباسی شہید اسپتال کے پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز اور ہاؤس آفیسرز کے بقایا جات بھی ادا کردیئے گئے ہیں.

مرتضی وہاب نے کہا کہ دوہری تنخواہ حاصل کرنے والے ملازمین کی نشاندہی کرکے ان کی تنخواہیں ختم کردی گئی ہیں.ہماری کوشش ہے کہ نئے مالی سال 2026-27 میں ریٹائرڈ ملازمین کے بقایا جات اور حکومت کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے کو بھی مدنظر رکھا جائے اور کوشش ہوگی کہ بقایا جات کی ادائیگی اور تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا جائے۔ اس کے لئے مالی وسائل درکار ہوں گے میں بحیثیت حکومت سندھ سے درخواست کروں گا کہ وہ ہمیں فنڈز فراہم کریں تاکہ ان ادائیگیوں کو یقینی بنایا جاسکے۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ محنت کش طبقے کے لئے ہمیشہ آواز بلند کی ہے۔ محکمہ فائربریگیڈ ایمرجنسی رسپونس سینٹر کے ملازمین کو 24 سال بعد ٹائم اسکیل کا اجراء کیا گیا۔محکمہ فائربریگیڈ کے وہ ملازمین جنہوں نے دہائیوں تک بغیر کسی ترقی کے اپنی جانوں کو خطرات میں ڈال کر اپنی جانیں دیں.
ان کافر کہنا تھا کہ گزشتہ 24 سال سے ترقی کے منتظر بی پی ایس۔6 کے لائف گارڈز کو تسلیم بخش کارکردگی کے بعد بی پی ایس۔9 میں ترقی دی گئی۔ شہر کے نظم و نسق کو موثر بنانے اور بلدیاتی خدمات کو مزید بہتر کرنے کے لئے کے ایم سی کے مختلف محکموں میں نئی ہیوی وہیکلز کے بیڑے کو شامل کیا گیا ہے،ان وہیکلز کی خریداری پرانی اور ناکارہ گاڑیوں کی نیلامی سے حاصل کی جانے والی رقم سے کی گئی۔ماؤنٹ ٹرکس سمیت ہیوی ڈیوٹی گاڑیوں کے لئے 110 ملین روپے کی منظوری دی گئی تھی۔ یہ گاڑیاں محکمہ انجینئرنگ، محکمہ اینٹی انکروچمنٹ، محکمہ پارکس اور محکمہ ویٹرنری سروسز کے حوالے کی گئیں جس سے بلدیہ کے ملازمین کو اپنی خدمات میں آسانی میسر آئی۔اسی طرح کے ایم سی کے مختلف محکموں میں کام کرنے والے ڈسپیج رائیڈرز میں 20 الیکٹرک بائیکس تقسیم کی گئی ہیں۔
میئر کراچی نےولی کہا کہ یہ ماحولیاتی تبدیلی اور کاربن کے اخراج میں بھی موثر حکمت عملی ہے۔کے ایم سی پاکستان کی واحد کونسل ہے جس نے ملازمین کو بجلی سے چلنے والی بائیکس دی ہیں۔150کلو واٹ سولر پاور سسٹم کے ایم سی ہیڈ آفس میں نصب کیا گیا ہے اور شہر کے مختلف مقامات پر بھی چارجنگ اسٹیشنز بنانے کی تجویز ہے

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں