پاکستانی طلبہ کو روسی جامعات اور طبی مراکز سے روشناس ہونے کے مواقع دئیے جائیں گے:نکیتا کوسیا کوف

پاکستانی طلبہ کو روسی جامعات اور طبی مراکز سے روشناس ہونے کے مواقع دئیے جائیں گے:نکیتا کوسیا کوف

کراچی: رشین سینٹر اوف سائنس اینڈ کلچر کراچی کے وائس قونصل ڈائریکٹر نکیتا کوسیا کوف نے کہا کہ پاکستانی طلبہ کو روسی جامعات اور طبی مراکز سے روشناس ہونے کے مواقع دئیے جائیں گے۔ روس کا ہیلتھ کئیر نظام جدید طبی معیارات کے عین مطابق ہے۔ وہ بروز  پیر 18 مئی 2026 کو بیت الحکمہ آڈیٹوریم، مدینتہ الحکمہ میں منعقدہ تیسرے انٹرنیشنل نرسنگ سیمینار سے بہ طور مہمان اعزازی خطاب کررہے تھے۔

رفیدہ ہمدرد کالج اوف نرسنگ کے زیر اہتمام تیسرا انٹرنیشنل نرسنگ سیمینار، چھٹے عالمی دن برائے نرسنگ اور مڈوائفری کی مناسبت سے انعقاد پزیر ہوا، جس کی صدارت ہمدرد یونی ورسٹی کی چانسلر محترمہ سعدیہ راشد نے فرمائی۔ سیمینار میں سینیٹر عبد الحسیب خان نے شہید پاکستان حکیم محمد سعید کی طبی و سماجی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا، طلبہ کی حلف برداری ہوئی، لیمپ لائٹنگ کی تقریب ہوئی اور نرسنگ کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے خطاب کیا۔

نکیتا کوسیا کوف نے کہا اسٹوڈنٹ ایکسچینج پروگرام کے ذریعے پاکستان میں نرسنگ کے طلبہ روس میں جاری جدید میڈیکل پریکٹس سیکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح طب مشرق کی اہمیت بھی بڑھتی جارہی ہے۔ ہم چاہیں گے کہ روسی طلبہ بھی طب یونانی کو پڑھیں اور سمجھیں۔ اگلا زمانہ ایشیا کے عروج کا ہے اور یہ تب ممکن ہے جب ایشیائی ممالک پر شعبے میں باہمی تعاون بڑھائیں۔

سیمینار کے مہمان خصوصی عالمی ادارے صحت کے صوبہ سندھ میں سربراہ مختیار حسین بھایو نے کہا اگرچہ نرسیں دن رات محنت اور خلوص کے ساتھ خدمات انجام دیتی ہیں، لیکن انہیں جو قدر اور اعتراف ملتا ہے وہ اب بھی ان کے حق سے کم ہے۔ ہمیں اس شعبے کے لیے مزید مضبوط آگاہی مہمات، بہتر مالی وسائل، اور زیادہ سرکاری و ادارہ جاتی حمایت کی ضرورت ہے۔

سب سے پہلا قدم نرسوں کی تعداد میں اضافہ ہے۔ سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر آئندہ دس سال کے لیے ایک نئی صحت پالیسی تیار کرنے پر کام کیا ہے۔ اگلے ماہ یہ پالیسی صوبائی وزارت صحت سندھ اور صحت کے ماہرین کے تعاون سے پیش کی جائے گی۔ اسی دوران نرسنگ کے شعبے میں اصلاحات کو بھی حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

ہمارا مقصد واضح ہے۔ آنے والے سالوں میں ہم چاہتے ہیں کہ ہر ڈاکٹر کے مقابلے میں کم از کم دو سے تین نرسیں موجود ہوں۔ یہ ہماری پالیسی کا ایک اہم ہدف ہے۔

سعدیہ راشد نے صدارتی خطبے میں کہا ہم دنیا بھر کی نرسوں کی محنت، ہمدردی، حوصلے اور قیمتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ نرسیں مریضوں کی دیکھ بھال، عوامی صحت، آفات کے دوران امداد، بحالی کے عمل اور صحت عامہ کی خدمات میں سب سے آگے رہتی ہیں۔ صحت کے نظام میں ان کا کردار انتہائی اہم اور بے حد قیمتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں، صحت کی تنظیموں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہونا چاہیے تاکہ پاکستان سمیت دیگر ممالک میں نرسنگ کی تعلیم اور صحت کی سہولیات کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔

سیمینار میں وائس چانسلر ہمدرد یونی ورسٹی پروفیسر ڈاکٹر عمران امین، پروفیسر ڈاکٹر یاسمین امارسی، رفیدہ ہمدرد کالج اف نرسنگ کی پرنسپل عالیہ ناصر سمیت دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔ ملائیشیا اور امریکا سے محققین آن لائن شریک ہوئے۔ کیک کٹنگ کی تقریب ہوئی۔ سیمینار کا اختتام دعائے سعید سے ہوا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں