اگر ڈان بند ہوگیا تو سمجھ لیں کے صحافت ختم ہوگئی: صحافت کے عالمی دن پر سیمینار
کراچی: صحافت کے عالمی دن پر کراچی پریس کلب میں پی ایف یو جے کی جانب سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔
پروفیسر توسیف کا کہنا تھا کہ پریس پر دباٶ ڈالنے سے افواہیں جنم لیتی ہیں۔ حکومت نے خود ایسا ماحول کریئیٹ کیا ہے جس سے عوام کا سوشل میڈیا کی طرف دھیان بڑھتا جا رہا ہے۔آزاد صحافت نہیں ہوگی تو جمہورت بھی نہیں ہوگی پھر آمریت ہوگی.
مظہر عباس نے کہا کہ صحافی کا راستہ صرف جدوجہد کا راستہ ہے۔ باتیں صرف سیاستدانوں کے درمیان ہوتی ہیں٫ کوئی اور بات کریگا تو اس کے لئے مسائل پیدا ہونگے۔پی ایف یو جے صرف کوئی نام نہیں، ان کی پہلی ذمہ داری ہے کہ اچھے صحافی بنیں۔ ڈان ہر حکومت کے اتاب میں رہا ہے مگر کسی پارٹی نے نہیں کہا کہ اس کا بزنس بحال کیا جائے،اگر ڈان بند ہوگیا تو سمجھ لیں کے صحافت ختم ہوگئی۔اگر ملک میں کالے قانون نافذ کرنے پر سوال حکومت سے کیا جاتاہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پی ایف یو جے کی کیمپ میں آکر کہا تھا کے پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس واپس لیا جاۓ گا مگر نہیں کیا گیا۔ آپ نے جنرلزم کو کرائم بنا دیا ہے۔خبر کی بنیاد پر صحافی کو ہتھکڑیاں لگوادی گئیں۔ سوشل میڈیا پر بہت سی اچھی چیزیں بھیں ہیں٫ ماضی کو دور میں اخبارات میاں سوشل میڈیا سے بھی غلط زباں استعمال کی گئی ہے۔ یہ طے ہے کہ حکومت سے پیسے لیکر پھر صحافت نہیں کی جاسکتی۔جتنی یونینز بنیگیں صحافت کمزور ہوتی جاۓ گی۔
ٹریڈ یونین رہنما زارا خان نے کہا کہ پی ایف یو جے کے تمام دھڑوں ایک ہونا ہوگا۔مزدوروں اور صحافیوں کےمسائل یکساں ہیں، یہ وقت ہے کہ ہمیں ایک ہونا ہوگا۔ پھر کسی کا استحال نہیں ہوگا۔
طاہر خان نے کہا کہ پیکا کا مقص صحافی کی آواز دبانے کے لۓ ہے، صحافت نہی رہی تو پھر پارلیمنٹ بھی نہیں رہے گی۔ اتنے تو کرمنلز بھی گرفتار نہیں ہوۓ جتنے صحافی گرفتار ہوئے ہیں۔ ہم صحافی اس لۓ سیاستدانوں سے ہی بات کرنا چاہتے ہیں۔ہم تمام جلد جدوجہد کرنے جارہے ہیں
امتیاز خان فاران نے کہا کہ آج اگر سندھی اخبارات ہیں تو اس میں محمد خان جونیجو کا اہم کردار تھا۔ جی ایم سید اور رسول بخش پلیجو نے صحافتی جدوجہد میں بہت ساتھ دیا۔ جن لوگوں کے خلاف پیکا ایکٹ آیا ان میں سے کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا۔ ہمارے معاشی مسائل ہیں مگر باوجود اسکے جدوجہد کرنا ہوگی۔
ٹریڈ یونین رہنما ناصر منصور نے کہا کہ جو جبر اور خوف کا آج عالم ہے ایسا آمریت میں بھی نہیں تھا۔ آواز دبانے سے جاگرافی چینچ ہوتی ہیں۔ درست وقت پر ہی کام کرنا چاہے۔جب اپ کمزور ہوں تو ایک اتحاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ٹہیکیداری نظام غلامی ہے۔ہمارہ اسم اعظم اتحاد ہے۔
شرمیلہ فاروقی نے کہا کہ کراچی پریس کلب میرے لۓ دوسرہ گھر ہے۔ یہ دور چیلینز کا دور ہے، صحافی آزاد صحافت اور سیاستدان آزاد سیاست کی بات کرتے ہیں۔صحافیوں نے کوڑے کہاۓ مگر قلم نہیں چھوڑی۔ پیکا ایکٹ میں بہت سی سخت شقیں تھیں جو پیپلز پارٹی کی وجہ سے ختم کی گئیں۔ صحافت کی آزادی صرف صحافی نہیں عام آدمی کی آزادی ہے۔صحافت اور سیاست کا انٹوٹ رشتہ ہے اور قائم رہے گا۔میں ہر فورم پر بات کروںگی۔میڈیا کے اشوز پر قومی سطح پر بات چیت کرنی چاہیے۔ایسے قوانین بناۓ جائیں جس سے صحافی اور صحافت مضبوظ ہو میں اس لئے اپنی پارٹی سے بی بات کروں گی۔
حبیب جنیدی نے کہا کہ آزاد صحافت صرف صحادیوں کا نہیں انسانی حقوق کا مسئلا ہے۔ ہم سب کو مل کر جدوجہد کرنا ہوگی۔
لالا اسد پٹھان کا کہنا تھا کہ جو لوگ کہتے تھے کہ اقتدار میں اکر صحافتی آزادی کے لۓ کام کرینگے مگر وہ ہی کالے قانون بنا رہے ہے ہیں۔ اب کوشش کی جارہی ہے کہ ہائیڈ ہارکس پر قبضہ کیا جائے۔ ہم کیوں سینسرشپ لے لئے راستہ بنائیں۔ کراچی پریس کلب ہائیڈ پارکس کا پہلا گھر ہے باقی سب بعد میں وجود میں آۓ۔ اگر پریس کلبس پر بھی قبضہ ہوگیا تو کچہ نہیں بچے گا، سب کو ملکر کام کرنا پڑے گا۔ ہم ایک نہیں ہوسکتے مگر اشوز پر ایک ہونا پڑے گا۔
سیمینار مین صحافیوں کے حقوق اور تحفظ کے لئے مختلف قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔
