آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور حکومتِ سندھ کے مشترکہ تعاون سے منعقد ہونے والے تیسرے ورلڈ کلچر فیسٹیول 2026 کے حوالے سے پریس کانفرنس کا انعقاد
کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور حکومتِ سندھ کے مشترکہ تعاون سے منعقد ہونے والے 25 روزہ تیسرے ورلڈ کلچر فیسٹیول 2026 کے حوالے سے پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں صدر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی محمد احمد شاہ، چیف سیکریٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ اور صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے فیسٹیول کے پروگرام، عالمی و ملکی فنکاروں کی شرکت، ثقافتی سرگرمیوں اور انتظامات کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دی۔
صدر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی محمد احمد شاہ نے کہا کہ ورلڈ کلچر فیسٹیول اب پاکستان کی ثقافتی شناخت کا اہم حوالہ بن چکا ہے، تیسرا ورلڈ کلچر فیسٹیول کا آغاز 29 اکتوبر سے ہوگا جو 22 نومبر تک جاری رہے گا۔ پہلے فیسٹیول میں 43 ممالک شریک ہوئے، دوسرے میں 144 ممالک سے فنکار آئے جبکہ اس سال تقریباً 150 ممالک کے فنکار فیسٹیول کا حصہ بن رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر سے ایک ہزار سے زائد فنکار کراچی آرہے ہیں، جبکہ پاکستان کے 500 سے زائد فنکار بھی مختلف پروگراموں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ فیسٹیول صرف موسیقی یا تھیٹر تک محدود نہیں بلکہ مختلف اصنافِ فن و ثقافت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش ہے۔ دنیا میں موسیقی، رقص اور فلم کے الگ الگ بڑے فیسٹیول منعقد ہوتے ہیں، تاہم ورلڈ کلچر فیسٹیول میں مختلف فنون کو ایک جگہ پیش کیا جا رہا ہے۔
محمد احمد شاہ نے کہا کہ ہم نے ثقافتی سفارت کاری کے ذریعے دنیا میں پاکستان، سندھ اور کراچی کے بارے میں موجود غلط تصورات کو دور کرنے کا فیصلہ کیا۔ دنیا بھر سے فنکاروں اور مندوبین کو پاکستان بلا کر انہیں ملک اور شہر کو خود دیکھنے کا موقع دیا جا رہا ہے تاکہ وہ واپس جا کر پاکستان کا مثبت پیغام اپنے ممالک تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 144 ممالک سے فنکار پاکستان آئے تو کراچی کے شہریوں نے ان کے لیے اپنے گھر کھول دیے اور انہیں مدعو کیا، جبکہ حکومت کے تقریباً 20 محکموں نے بھی فیسٹیول کے انعقاد میں تعاون کیا۔ سندھ حکومت، محکمہ ثقافت اور دیگر متعلقہ ادارے اس فیسٹیول کے باضابطہ اور فعال شراکت دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فیسٹیول کا بنیادی مقصد ثقافت کے ذریعے لوگوں کو قریب لانا اور امن کا پیغام دینا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں جنگوں اور تنازعات کے باوجود امریکہ، ایران، عراق، فلسطین، لاطینی امریکہ سمیت چھ براعظموں سے فنکار کراچی آرہے ہیں۔ فلسطین سے بھی دو تھیٹر گروپس شرکت کر رہے ہیں جن کے کئی فنکار شہید ہوچکے ہیں۔ کراچی نے ماضی میں لسانی بنیادوں پر بہت کچھ برداشت کیا، اس لیے ہم نے تمام زبانوں، علاقوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ پورے پاکستان کے فنکار فیسٹیول میں شریک ہوں گے، جن میں سندھ کے علاوہ خیبر پختونخوا، بلوچستان، کشمیر، پنجاب اور سرائیکی خطے کے فنکار بھی شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم غیر ملکی فنکاروں کو صرف اپنا فن دکھانے کے لیے نہیں بلاتے بلکہ پاکستانی فنکاروں کو بھی عالمی فنکاروں کے ساتھ پرفارم کرنے کا موقع دیتے ہیں۔ پاکستانی اور غیر ملکی فنکاروں کے درمیان فیوژن پرفارمنسز بھی پیش کی جائیں گی جبکہ سندھ کے روایتی سازوں اور موسیقی کو بھی اجاگر کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ فیسٹیول میں خصوصی طور پر ’’مہران نائٹ‘‘ منعقد کی جائے گی جس کا مقصد سندھ کے فن، موسیقی اور ثقافت کو نمایاں کرنا ہے۔ شاہ لطیف وائسز فیسٹیول بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال اکبر خمیسو خان اور بیلجیم سے آنے والے ٹیمپٹ پلیئر کی مشترکہ پرفارمنس نے بھی شائقین کی بھرپور توجہ حاصل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کلاسیکل موسیقی سے لے کر لوک موسیقی اور مختلف علاقائی اصناف تک پاکستان کا موسیقی کا ورثہ انتہائی مضبوط اور متنوع ہے۔ غیر ملکی فنکار ہمارے الغوزے، بورندو اور دیگر روایتی سازوں میں خصوصی دلچسپی لیتے ہیں، اسی ثقافتی تبادلے کو مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
