
ائیر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ نے طیارہ حادثے کی رپورٹ چار سال بعد جاری کردی
پی آئی اے کا ائیر بس A320 طیارہ 22 مئی 2020 کو لینڈنگ کی دوسری کوشش کے دوران کراچی ائیرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی میں گر کر تباہ ہو گیا تھا
رپورٹ کے مطابق حادثہ واضح طور انسانی غلطی کی وجہ سے پیش آیا، لینڈنگ سے پہلے چار مرتبہ ائیر ٹریفک کنٹرولر نے پائلٹ کو لینڈنگ سے روکتے ہوئے بتایا کہ طیارے کی اونچائی بہت زیادہ ہے لیکن پانچویں مرتبہ ائیر ٹریفک کنٹرولر نے لینڈنگ کی اجازت دے دی۔ پائلٹس اور ائیر ٹریفک کنٹرولرز میں رابطے اور ہم آہنگی کا فقدان تھا،
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پہلی لینڈنگ کیلئے اپروچ بناتے وقت طیارے کے پہیے یعنی لینڈنگ گیرز کھلے تھے لیکن عین لینڈنگ کے وقت دونوں پائلٹس میں سے کسی ایک نے لینڈنگ گیر دوبارہ بند کر دیئے،طیارے نے پہلی مرتبہ بغیر لینڈنگ گیر کھولے لینڈنگ کی کوشش کی ،لینڈنگ کی پہلی کوشش کے دوران طیارے کے انجن رن وے سے ٹکرائے، انجن رن وے سے ٹکرانے اور رگڑنے کی وجہ سے شعلے بھی نکلے ،طیارے کے انجن ٹکرانے اور شعلے نکلنے کے بارے میں ائیر ٹریفک کنٹرولر نے پائلٹ کو نہیں بتایا۔طیارے کے دونوں انجن رن وے سے ٹکرانے کی وجہ سے متاثر ہوئے اور دونوں انجنوں کو لبریکینٹ آئل فراہم کرنے والا نظام خراب ہو گیا۔ جس کی وجہ سے دونوں انجن بیک وقت بند ہو گئے ۔انجن بند ہونے سے طیارہ گر کر حادثہ کا شکار ہو گیا۔
جاری رپورٹ کے مطابق طیارے کے دونوں انجن بند ہونے سے بجلی کی فراہمی بند ہو گئی تھی جس کی وجہ سے پرواز کا آخری 4 منٹ کا ڈیٹا ریکارڈ نہیں ہو سکا،حادثہ کی انتظامی ذمہ داری پی آئی اے اور پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی پر بھی عائد کی گئی ہے
