چیئرمین آباد کا شرح سود میں اضافے پر تشویش کا اظہار،واپس لینے کا مطالبہ
کراچی: ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین محمد حنیف گوہر نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ میں مزید 0.5 فیصد اضافے پر تشویش کا اظہار
کراچی: ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین محمد حنیف گوہر نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ میں مزید 0.5 فیصد اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرح سود بڑھ کر 12 فیصد ہونے سے تعمیراتی صنعت کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، انھوں نے مطالبہ کیا کہ معیشت کی بہتری کیلیے شرح سود میں اضافہ واپس لے کر اس میں واضح کمی کی جائے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ شرح سود میں اضافے کے اثرات نہ صرف تعمیراتی شعبے بلکہ ملکی معیشت اور روزگار کے مواقع پر بھی مرتب ہوں گے۔محمد حنیف گوہر نے کہا کہ پالیسی ریٹ میں اضافے سے تعمیراتی منصوبوں کی لاگت بڑھنے کا خدشہ ہے، کیونکہ بلند شرح سود کے باعث سرمایہ حاصل کرنا مہنگا ہو جاتا ہے۔اس صورت حال میں تعمیراتی منصوبوں پر سرمایہ کاری متاثر ہونے کے ساتھ نئے منصوبوں کے آغاز میں بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پہلے ہی سریا کی قیمتوں میں اضافہ کیاگیاہے، شرح سود میں اضافے کے بعد سیمنٹ، سریا اور دیگر تعمیراتی مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، جس سے پہلے ہی مشکلات کا شکار تعمیراتی صنعت پر مزید دباؤ بڑھے گا اور تعمیراتی لاگت میں اضافے سے مکانات اور دیگر عمارتوں کی تعمیر عام شہریوں کے لیے مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان میں پہلے ہی ایک کروڑ رہائشی یونٹس کی کمی ہے جس سے عام شہری کے لیے اپنا گھر خریدنا ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔
محمد حنیف گوہر نے کہا کہ شرح سود میں اضافے سے تعمیراتی صنت سے وابستہ 100 سے زائد دیگر صنعتوں کا پہیہ چلنا بھی مشکل ہوجائے گا۔ اگر تعمیراتی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہوئیں تو اس کے اثرات مزدوروں، ہنرمند افراد، ٹھیکیداروں اور تعمیراتی سامان کی فراہمی سے منسلک کاروباروں تک پہنچ سکتے ہیں۔
محمد حنیف گوہر نے خدشہ ظاہر کیا کہ تعمیراتی شعبے میں مزید مشکلات پیدا ہونے سے بے روزگاری میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عوام کی معاشی مشکلات بڑھنے کا امکان ہے۔ تعمیراتی صنعت کی ترقی ملکی معیشت کے استحکام اور روزگار کے تحفظ کے لیے اہم ہے۔انھوں نے زور دیا کہ معاشی پالیسیوں میں تعمیراتی صنعت کی اہمیت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شرح سود میں اضافے کے ممکنہ اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے، تاکہ تعمیراتی صنعت کو درپیش مشکلات اور روزگار کے مواقع میں کمی کے خدشات پر بروقت توجہ دی جا سکے۔
