وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیرِ صدارت ادارہ ترقیات کراچی کی1200ویں گورننگ باڈی کا اجلاس

وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیرِ صدارت ادارہ ترقیات کراچی کی1200ویں گورننگ باڈی کا اجلاس

کراچی: وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیرِ صدارت ادارہ ترقیات کراچی کی1200ویں گورننگ باڈی کا اجلاس سوک سینٹر میں منعقد ہوا، جس میں ادارے کے انتظامی، مالیاتی اور ترقیاتی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات اور پنشن کی ادائیگی، ادارے کے مالی وسائل میں اضافے، سرکاری اراضی سے تجاوزات کے خاتمے اور لینڈ ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کرنے سمیت اہم امور زیرِ بحث آئے۔

وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سافٹ انکروچمنٹ کو فوری طور پر ختم کرایا جائے اور حتمی فہرست تیار کی جائے,کے ڈی اے کے فلاحی پلاٹوں کو غیرقانونی اور ناجائز استعمال کرنے والوں کے خلاف فوری طور پر ایکشن لیا جائے گا، اجلاس میں نیلام شدہ پلاٹوں کے مالکان کو واجبات کی یکمشت ادائیگی پر 25 فیصد رعایت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس موقع پرممبران گورننگ باڈی کے ڈی اے علی احمد جان ممبر صوبائی اسمبلی، محمد یوسف بلوچ ممبر صوبائی اسمبلی،ڈاکٹر وسیم احمد شمشاد ایڈیشنل چیف سیکریٹری لوکل گورنمنٹ، حسن نقوی کمشنر کراچی، عبدالصمد جملانی ممبر ٹیکنیکل، نوید انور صدیقی ممبر فنانس، فرید شیخ ممبر ایڈمنسٹریشن موجود تھے۔

اجلاس کے دوران سیکرٹری گورننگ باڈی / ڈائریکٹر جنرل ادارہ ترقیات کراچی زین العابدین انصاری نے وزیر بلدیات سندھ کو ادارے کی موجودہ مالی صورتِ حال اور ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنشنرز اور ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی ادارے کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں حکومتی تعاون سے مؤثر پیش رفت ممکن بنائی جا سکتی ہے۔

اس موقع پر وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے واضح کیا کہ ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی بروقت ادائیگی کو ترجیح دی جائے، کیونکہ یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمین اپنی پنشن اور واجبات کے منتظر رہتے ہیں، اس لیے ادائیگیوں میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کے لیے حکومت سندھ کا تعاون جاری رہے گا۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پنشنرز اور ریٹائرڈ ملازمین کو مالی مشکلات سے نکالنے کے لیے قابلِ عمل لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔سرکاری اراضی کے تحفظ اور ادارے کی آمدن میں اضافے کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ کے ڈی اے اپنی اراضی پر غیر قانونی قبضوں کے خاتمے اور دستیاب زمینوں کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانے کے لیے اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

وزیر بلدیات سندھ نے ہدایت کی کہ نیلامی کے عمل سے قبل متعلقہ پلاٹس سے تمام تجاوزات ختم کرائی جائیں اور قانونی و انتظامی تقاضے پورے کرنے کے بعد انہیں نیلامی کے لیے پیش کیا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ پلاٹس کی منصفانہ اور شفاف قیمت کے تعین کے لیے تھرڈ پارٹی کے ذریعے ان کی مارکیٹ ویلیو کا تخمینہ لگایا جائے، تاکہ سرکاری اراضی کی فروخت سے ادارے کو بہتر مالی فائدہ حاصل ہو اور اس کے وسائل میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔اجلاس میں ادارے کے لینڈ ریکارڈ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے منصوبے پر بھی گفتگو ہوئی۔

ڈی جی کے ڈی اے زین العابدین انصاری نے بتایا کہ لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے اور اس پر جلد عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔ اس اقدام سے زمینوں کے ریکارڈ کو محفوظ بنانے، معلومات تک رسائی بہتر کرنے، ریکارڈ کی جانچ پڑتال میں سہولت پیدا کرنے اور انتظامی امور میں شفافیت لانے میں مدد ملے گی۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ادارے کے مالی مسائل کے حل، ملازمین اور پنشنرز کے حقوق کے تحفظ، سرکاری اراضی کے مؤثر انتظام اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے کے ڈی اے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں گے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں