محکمہ آبپاشی سندھ اور ورلڈ بینک کے اشتراک سے دریائے سندھ کے رائٹ بینک کے سیلابی خطرات میں کمی اور تدارک کے اقدامات سے متعلق اہم ورکشاپ کا انعقاد

محکمہ آبپاشی سندھ اور ورلڈ بینک کے اشتراک سے دریائے سندھ کے رائٹ بینک کے سیلابی خطرات میں کمی اور تدارک کے اقدامات سے متعلق اہم ورکشاپ کا انعقاد

کراچی: محکمہ آبپاشی سندھ اور ورلڈ بینک کے اشتراک سے دریائے سندھ کے رائٹ بینک کے سیلابی خطرات میں کمی اور تدارک کے اقدامات سے متعلق اہم ورکشاپ کا انعقاد۔

کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں سندھ فلڈ ایمرجنسی ری ہیبلیٹیشن پروجیکٹ کے تحت دریائے سندھ کے رائٹ بینک (Right Bank) کے سیلابی خطرات کے جائزے اور تدارک کے اقدامات سے متعلق تحقیقی رپورٹ کی Dissemination Workshop کا انعقاد کیا گیا۔

ورکشاپ میں وزیر آبپاشی، منصوبہ بندی و ترقی سندھ جام خان شورو، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو، سیکریٹری سہیل قریشی، انڈس واٹرز کے پاکستان کمشنر محمد مہر علی شاہ، چیئرمین فیڈرل فلڈ کمیشن اطہر حمید، ممبر ارسا شفقت حسین ودھو،ڈپٹی سیکریٹری فراز احمد صدیقی،چیف پلاننگ کمیشن اصغر علی حلیپوتو، ورلڈ بینک کے ماہرین و اعلیٰ عہدیداران، دیگر وفاقی و صوبائی افسران، سول سوسائٹی اور نجی و سماجی تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

ورکشاپ کے دوران دریائے سندھ کے رائٹ بینک کو درپیش سیلابی خطرات، ان کے تدارک کے لیے مجوزہ اقدامات اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

وزیر آبپاشی، منصوبہ بندی و ترقی سندھ جام خان شورو نے کہا ہے کہ سندھ میں سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی ردعمل سے آگے بڑھتے ہوئے سیلابی خطرات میں مستقل کمی اور صوبے کو زیادہ مضبوط اور لچکدار بنانے کی حکمتِ عملی اپنائی جا رہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ فلڈ ایمرجنسی ری ہیبلیٹیشن پروجیکٹ (SFERP) کے تحت دریائے سندھ کے رائٹ بینک کے سیلابی خطرات کے جائزے اور تدارک کے اقدامات سے متعلق منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

جام خان شورو نے کہا کہ سندھ دریائے سندھ کا آخری زیریں حصہ ہے، اس لیے بالائی علاقوں میں ہونے والی تبدیلیوں اور بارشوں کے اثرات بالآخر سندھ تک پہنچتے ہیں۔ پانی سندھ کی زراعت، معیشت اور عوام کے روزگار کی بنیاد ہے، تاہم غیر منظم پانی صوبے کے لیے ایک بڑے خطرے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب سندھ کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوئے، جن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں آبادی متاثر ہوئی، فصلوں کو نقصان پہنچا اور لوگوں کے روزگار میں خلل آیا۔

وزیر آبپاشی نے کہا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے سندھ فلڈ ایمرجنسی ری ہیبلیٹیشن پروجیکٹ کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی اور تعمیرِ نو کے اقدامات کیے گئے، تاہم 2022 کے تجربے نے واضح کر دیا کہ صرف تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی مرمت کافی نہیں، بلکہ مستقبل کے سیلابی خطرات کو پہلے ہی سے کم کرنا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ رائٹ بینک کے سیلابی خطرات سے متعلق موجودہ مطالعہ اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے، جس کے ذریعے پورے رائٹ بینک کو ایک مربوط نظام کے طور پر دیکھتے ہوئے ایسے اقدامات کی نشاندہی کی گئی ہے جو سیلابی خطرات سے نمٹنے اور عوام کے تحفظ میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

جام خان شورو نے کہا کہ حکومت سندھ اعداد و شمار، تحقیق اور شواہد کی بنیاد پر پالیسی سازی اور ترقیاتی سرمایہ کاری کو فروغ دے رہی ہے۔ بطور وزیر آبپاشی اور منصوبہ بندی و ترقی ان کی کوشش ہے کہ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات کا تعین مستند ڈیٹا، جامع تجزیے اور شفاف طریقہ کار کی بنیاد پر کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مطالعاتی رپورٹ کے نتائج اور ورکشاپ میں ہونے والی مشاورت مستقبل کے مجوزہ سندھ فلڈز ریزیلینس پروجیکٹ (SFRP) کی تیاری میں معاون ثابت ہوگی۔ اس منصوبے میں حفاظتی انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ ابتدائی وارننگ سسٹم، ہنگامی تیاری اور ادارہ جاتی استعداد میں بہتری پر بھی توجہ دی جائے گی۔

وزیر آبپاشی نے کہا کہ سیلابی خطرات صرف دریائے سندھ کے ایک کنارے تک محدود نہیں ہیں۔ لیفٹ بینک کو بھی اسی جامع مطالعے اور منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جائے گا، جہاں بالخصوص نکاسی آب کے اہم مسائل موجود ہیں۔ حکومت سندھ کا مقصد پورے صوبے کے لیے ایک مربوط اور جامع فلڈ ریزیلینس حکمتِ عملی تشکیل دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ موجودہ آبپاشی نظام میں ادارہ جاتی اصلاحات اور استعدادِ کار میں اضافے کے لیے بھی پرعزم ہے۔ مستقبل میں سندھ واٹر ریسورسز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے تحت پانی کے بہتر انتظام اور حکمرانی کی سمت میں اقدامات کیے جائیں گے۔

جام خان شورو نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، ورلڈ بینک اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کا تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے SFERP کے پروجیکٹ امپلیمنٹیشن یونٹ، اور ایشین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین کی جانب سے مطالعاتی رپورٹ کی تیاری کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو بھی سراہا۔

وزیر آبپاشی نے کہا کہ حکومت سندھ کا واضح مقصد قدرتی آفات کے بعد صرف ردعمل دینے کے بجائے سیلابی خطرات کو منظم انداز میں کم کرنا اور ایک مضبوط، محفوظ اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے قابل سندھ کی تعمیر ہے۔

ورکشاپ سے چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی نجم احمد شاہ، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو اور ورلڈ بینک کے عہدیداران نے بھی خطاب کیا۔

سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو اور ورلڈ بینک کے ٹاسک ٹیم لیڈر و ڈیزاسٹر رسک مینجمینٹ اسپیشلسٹ بلال خالد نے اپنے خطاب میں پروجیکٹ امپلیمنٹیشن یونٹ بلخصوص شکیل احمداورزاہدحسین شیخ کی کاوشوں کو سراہا۔

اس موقع پر ماہرین نے اپنی رپورٹ کے چیدہ چیدہ نکات پر تفصیلی گفتگو کی اور رپورٹ کے اہم نتائج اور سفارشات سے شرکاء کو آگاہ کیا۔

ماہرین نے ورکشاپ کے شرکاء سے مطالعاتی رپورٹ پر اپنی تجاویز اور آرا پیش کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ماہرین اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی تنقیدی رائے مستقبل کے منصوبوں کو مزید مؤثر بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں