آباد چیئرمین کی دو سالہ کارکردگی، تعمیراتی شعبے کے لیے اہم اقدامات
کراچی: ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کی جانب سے مختلف نیوز چینلز اور پرنٹ میڈیا سے وابستہ کامرس و بلدیاتی رپورٹرز جبکہ کراچی پریس کلب کے عہدیداران کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا۔
تقریب میں آباد کے چیئرمین نے اپنی دو سالہ کارکردگی اور تعمیراتی و ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے کیے جانے والے اقدام سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام ا کامیابیاں میڈیا کے بھرپور تعاون سے ہی آباد کو حاصل ہوئیں۔ اس موقع پر آباد کے سابق چیئرمین محسن شیخانی، محمد حنیف گوہر،آباد کے سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید،وائس چیئرمین طارق عزیز، چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی،پریس کلب کے سیکریٹری اسلم خان،سیج کے صدر راجہ کامران اور لگرا کے سیکرٹری جنرل محمد علی حفیظ دیگر صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
آباد کے چیئرمین نے بتایا کہ آباد کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں تعمیراتی شعبے پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے خاتمے سمیت متعدد اہم معاملات پر پیش رفت ہوئی۔ ان کے مطابق وزیراعظم کی ہاؤسنگ اینڈ کنسٹرکشن ٹاسک فورس کی ری فارمیشن میں بھی آباد نے اپنا کردار ادا کیا، جبکہ تعمیراتی منصوبوں کے کمپلیشن سرٹیفکیٹس کے اجرا کے حوالے سے نیسپاک کے ذریعے مسائل حل کرانے کے لیے اقدام کیے گئے۔
انھوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر قائم صوبائی کوآرڈینیشن کمیٹی اور بعد ازاں کمشنر کراچی کی سربراہی میں قائم کمیٹی کے ذریعے بھی تعمیراتی شعبے سے متعلق مختلف امور پر کام کیا گیا۔ آباد کے مطالبے پر بھتہ خوروں وسیع اللہ لاکھو اور جمیل چھانگا کے ریڈ وارنٹ جاری کروائے۔
چیئرمین آباد کے مطابق پاکستانی رہائشیوں کو بھی روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کھولنے کی سہولت فراہم کروائی گئے۔چئرمین نے بتایا کہ میڈیا کی بھرپور مدد سے آباد نے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو خاتمہ کرایا جبکہ سیکشن 236-K کے ٹیکس میں 50 فیصد کمی اور 236-C میں بھی 50 فیصد کمی کرائی گئی، جبکہ اراضی کے استعمال کی تبدیلی پر عائد پابندی کے خاتمے کے لیے بھی آباد کی کوششیں رنگ لائیں۔
انھوں نے بتایا کہ گھروں کی خریداری کے لیے 5 فیصد شرح پر دستیاب قرضے کی حد 50 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرانے میں بھی آباد نے کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق پہلی مرتبہ ایسکرو اکاؤنٹ رکھنے والے بلڈرز کے لیے 5 فیصد شرح سود پر 10 ارب روپے تک کے قرضوں کی سہولت فراہم کی گئی۔آباد چیئرمین نے مزید بتایا کہ ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے پہلی مرتبہ ڈیبٹ ایکویٹی فنانسنگ کا فریم ورک متعارف کرایا گیا، جس میں 20 فیصد ایکویٹی اور 80 فیصد ڈیبٹ شامل ہے۔
انھوں نے کہا کہ آباد پہلی مرتبہ کیپٹل مارکیٹ میں بھی داخل ہونے جا رہا ہے، جس سے تعمیراتی شعبے کے لیے نئے مالیاتی مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
چیئرمین آباد نے کہا کہ ایسوسی ایشن آئندہ بھی حکومت، متعلقہ اداروں اور میڈیا کے ساتھ مل کر تعمیراتی اور ہاؤسنگ سیکٹر کے مسائل کے حل اور ملکی معیشت میں اس شعبے کے کردار کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
