چیف سیکریٹری سندھ کے حکم پر غیر قانونی ٹائر پائرولیسس پلانٹس کے خلاف کارروائی، کیماڑی اور ملیر میں 13 یونٹس سیل
کراچی: چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی ہدایت پر سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) نے غیر قانونی ٹائر پائرولیسس پلانٹس کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرتے ہوئے ضلع کیماڑی اور ملیر میں ماحولیاتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے 13 یونٹس بند کر دیے۔ چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و ساحلی ترقی اور سیپا کو ہدایت کی کہ صوبہ بھر میں ٹائر پائرولیسس پلانٹس کا معائنہ کرکے تمام غیر مجاز اور قواعد و ضوابط پر عمل نہ کرنے والے یونٹس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ فضائی اور صنعتی آلودگی کا باعث بننے والی سرگرمیوں سے سختی سے نمٹا جائے اور ماحولیاتی قوانین اور مقررہ اخراجی معیارات پر بلاامتیاز عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
چیف سیکریٹری سندھ کی ہدایت پر سیپا نے ضلع کیماڑی میں آٹھ ٹائر پائرولیسس پلانٹس بند کیے، جبکہ ایک علیحدہ کارروائی کے دوران ضلع ملیر کے علاقوں گھگھر پھاٹک، دیوان سیمنٹ روڈ اور بن قاسم ٹاؤن میں قائم مزید پانچ یونٹس کے آپریشنز بند کر دیے گئے۔ آصف حیدر شاہ نے واضح کیا کہ ماحولیاتی قوانین اور مقررہ اخراجی معیارات کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں اور غیر قانونی ٹائر پائرولیسس پلانٹس چلانے والے افراد اور اداروں کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔
سیکریٹری ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و ساحلی ترقی فیصل احمد عقیلی نے ڈائریکٹر جنرل سیپا عاشق لانگا کو ماحولیاتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے ٹائر پائرولیسس پلانٹس کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔
سیکریٹری ماحولیات نے بتایا کہ یہ کارروائیاں سندھ حکومت کی جانب سے ٹائر پائرولیسس پلانٹس کے قیام اور آپریشن پر عائد پابندی کے تحت کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں معائنے اور کارروائیاں جاری رہیں گی اور غیر قانونی طور پر یا ضروری ماحولیاتی حفاظتی انتظامات کے بغیر چلنے والے یونٹس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
فیصل احمد عقیلی نے کہا کہ پائرولیسس کے عمل میں استعمال شدہ اور ناکارہ ٹائروں کو محدود آکسیجن میں بلند درجہ حرارت پر پراسیس کرکے آئل، بلیک کاربن، اسٹیل اور گیس حاصل کی جاتی ہے۔ تاہم، مؤثر ایمیشن کنٹرول سسٹم، فلٹریشن کے انتظامات اور دیگر ماحولیاتی حفاظتی اقدامات کے بغیر چلنے والے یونٹس سے زہریلا دھواں، باریک ذرات، غیر مستحکم نامیاتی مرکبات اور دیگر مضر کیمیائی اجزا فضا میں شامل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غیر محفوظ طریقے سے ٹائروں کو پراسیس کرنے والے پلانٹس سے خارج ہونے والی آلودگی سانس لینے میں دشواری، آنکھوں اور گلے میں جلن، دمہ اور دیگر تنفسی مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ آلودہ فضا میں طویل عرصے تک رہنا پلانٹس کے کارکنوں اور قریبی آبادیوں کی صحت کے لیے مزید سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
سیکریٹری ماحولیات نے کہا کہ غیر معیاری ٹائر پائرولیسس پلانٹس سے پیدا ہونے والی آلودگی فضائی معیار اور اردگرد کے ماحولیاتی نظام کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اس عمل سے پیدا ہونے والی راکھ، کیمیائی باقیات، آلودہ پانی اور دیگر ضمنی فضلے کو غیر محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے یا ٹھکانے لگانے سے زمین، سطحی پانی اور زیرِ زمین آبی وسائل آلودہ ہونے کا خدشہ بھی رہتا ہے۔
