میئر کراچی نے گارڈن پمپنگ اسٹیشن کا افتتاح کر دیا
کراچی: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اس وقت میں ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں گارڈن پمپنگ اسٹیشن پر موجود ہوں، بات کی جاتی ہے کام کیا ہو رہا ہے ،بات کی جاتی ہے منتخب نمائندے کیا کام کر رہے ہیں گارڈن پمپنگ اسٹیشن سال 2005 میں بنایا گیا تھا ، یہ علاقہ ایم کیو ایم کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔اس زمانے کے حکمرانوں نے گارڈن پمپنگ اسٹیشن بنانے کا یہاں کے مکینوں کو لولی پوپ دیا تھا۔کیونکہ اس وقت کے منتخب نمائندوں نے یہاں ہائیڈرنٹ چلانا تھا جب تک ہائیڈرنٹ تھا چل رہا تھا یہ بلا کسی خوف جب پمپنگ اسٹیشن بنایا گیا تو بہانہ بنایا گیا کہ الیکٹرک کا کنکشن نہیں 21 سال تک کسی کو اس پمپنگ اسٹیشن کی بحالی کا خیال نہیں آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ واٹر بورڈ حکام نے ہماری اس پمپنگ اسٹیشن کو بحال کرنے میں مدد کی، پمپنگ اسٹیشن کو بحال کر دیا گیا آج سے سپلائی شروع ہوگی، چالیس سال اقتدار رہا ان کے پاس کچھ نہیں کیا ، یہ اس لیے کراچی کو الگ کرنا چاہتے ہیں تاکہ گارڈن میں دکانیں بنا سکیں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کو بند کر کے چائنہ کٹنگ کریں۔اس شہر کے لوگ تعصب اور تفریق نہیں چاہتے اس شہر کے لوگ تعمیر و ترقی چاہتے ہیں، اس شہر میں خوف کے راج کو ہم نے ختم کیا ہے، یہ شہر صرف اردو ، سندھی ، بلوچی ، پشتو بولنے والوں کا نہیں ، یہ شہر ہر کراچی میں بسنے والے کا ہے،تم لوگ ہمیشہ تعصب اور تفریق کی بات کرتے ہو،اس شہر کی یونیورسٹی کا شمار بہترین یونیورسٹی میں ہوتا ہے ایم کیو ایم کے آنے سے پہلے 1976 میں لیاری سے ایمبولینس گئیں کوئٹہ کی خدمت کے لیے اس شہر کے لوگوں کو گٹکے ماوے اور پستول پر لگا دیا۔جو لوگ صدیقی ، محمد ،عثمان اور علی ہوتے تھے انہیں کانا کر دیا۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اس شہر سے بوری بند لاشیں ملتی تھیں وہ سارا وقت ہم نے پیچھے چھوڑ دیا ہے ، اس شہر کی رونق کو بحال کرنے کے لیے قربانیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں ، صحافیوں نے دی ۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے شہر سے وفا نہیں کی نہ ہی اپنے بھائی سے کی، بھائی کو اوکے اوکے کرتے رہے یہ لوگ ساری زندگی، یہ وہ لوگ ہیں جو ایک سے دو ہفتے پہلے ایک دوسرے پر فائرنگ کرتے رہے۔1950 یا 1960 میں اس ملک تفریق نہیں تھی یہ ملک آگے بڑھ رہا تھا۔سب سے زیادہ تہذیب اور ادب و آداب والی کمیونٹی جس کو اس نہج پر لے آئے یہ لوگ۔
