سید عابد رضوی کا اچانک دنیا سے رخصت ہونا ایک بڑا ادبی نقصان ہے:محمد احمد شاہ
کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام معروف صدا کار ، مصنف و سماجی کارکن سید عابد رضوی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد حسینہ معین ہال میں کیا گیا۔
تقریب میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر پروفیسر سحر انصاری، شاعرہ ڈاکٹر فاطمہ حسن، امینہ سید، صحافی حسن عباس، اویس ادیب انصاری، سید سہیل رضوی ، واصف ، خالد محمودسمیت ادبی و سماجی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اپنے پیاروں کی یاد میں تعزیتی نشست کا انعقاد ہمیشہ ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ سید عابد رضوی نہایت شفیق، محبت کرنے والے اور دعاگو انسان تھے۔ وہ اکثر رات گئے فون کرتے، خیریت دریافت کرتے اور میرے لیے دعائیں کیا کرتے تھے۔ان کی روحانی وابستگی اور خلوص ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔عابد بھائی کا ادب، مشاعروں اور ادبی سرگرمیوں سے گہرا تعلق تھا۔ عالمی اردو کانفرنس کے ابتدائی دنوں میں، جب وسائل محدود تھے، وہ ہندوستان سے آنے والے ادباء اور شعراء کی میزبانی سمیت ہر ممکن تعاون کرتے تھے۔عابد رضوی آرٹس کونسل کے ابتدائی پیٹرن ممبرز میں شامل تھے۔ ادارے کے ساتھ ان کا تعلق ہمیشہ مضبوط اور مخلصانہ رہا۔ان کی نصیحتیں، شفقت اور محبت ہمیشہ یاد رہیں گی۔ ان کا اچانک انتقال ادبی حلقوں اور ان کے چاہنے والوں کے لیے ایک بڑا صدمہ اور نقصان ہے۔ سید عابد رضوی ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی محبت، خلوص اور ادبی خدمات کے ذریعے ہر دل میں جگہ بنائی۔ وہ نہ صرف اعلیٰ اخلاقی اقدار کے امین تھے بلکہ انہیں عملی زندگی میں بھی اپناتے تھے۔ کوشش کرتے تھے کہ یہ اقدار آنے والی نسلوں تک منتقل ہوں۔پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ سید عابد رضوی نہایت متحرک، باصلاحیت اور ادبی ذوق رکھنے والی شخصیت تھے۔ کتابوں کی رونمائی ہو یا ادبی محفلیں، وہ ہر سرگرمی میں بھرپور دلچسپی اور خلوص کے ساتھ شریک ہوتے ، ان کی کوششوں سے متعدد اہم ادبی شخصیات مشاعروں اور تقریبات کا حصہ بنیں، جن میں بڑے نام شامل ہیں۔ انجمنِ ترقیٔ اردو سے وابستگی کے بعد انہوں نے ادارے کی تنظیم، بہتری اور ادبی ماحول کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔
صحافی حسن عباس نے کہا کہ میری سید عابد رضوی سے گہری عقیدت اور محبت کا تعلق تھا۔ جب بھی عمرے پر جاتا، وہ بڑی شفقت سے دعاؤں اور پیغامات کی تلقین کرتے۔ ان کے جانے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ کبھی پورا نہیں نہ ہوسکے گا۔ رات گئے تک مطالعہ اور تحریر میں مصروف رہتے اور اپنے مضامین و خیالات دوستوں سے شیئر کرتے۔ ہمیں لوگوں کی خوبیوں کو یاد رکھنا چاہیے، تلخیوں کو بھلا دینا چاہیے اور اپنے اندر معاف کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے۔یہی عابد رضوی کی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو تھا، جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
معروف شاعرہ ڈاکٹر فاطمہ حسن نےاظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سید عابد رضوی ایک مخلص دوست، بہترین ساتھی اور شفیق بھائی تھے۔ 1988ء میں ادبی سرگرمیوں کے ذریعے ہماری شناسائی ہوئی جو وقت کے ساتھ گہری رفاقت میں بدل گئی۔ہم نے بے شمار مشاعروں اور سفروں میں ساتھ کام کیا۔وہ ہمیشہ مشکل وقت میں میرے ساتھ کھڑے رہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی۔ 1997ء میں ہم نے حج کا سفر بھی اکٹھے کیا۔سید عابد رضوی ایک محبت کرنے والے، خلوص سے بھرپور اور یادگار شخصیت کے مالک تھے، جن کی کمی ہمیشہ محسوس ہوگی۔انجمن ترقی اردو میں ان کی خدمات قابل تعریف ہیں۔ زندگی کے ہر شعبے میں انہوں کی کامیابی حاصل کی۔سید عابد رضوی کے صاحبزادے سید سہیل رضوی نے کہا کہ میرے والد کو اللہ تعالیٰ، اہلِ بیتِ رسول ﷺ اور دینی اقدار سے بے حد محبت تھی، ہم نے زندگی بھر ان سے سیکھنے کی کوشش کی۔ انہیں علم و ادب سے گہرا شغف تھا۔وہ بے لوث طلبہ کی بے لوث مدد کیا کرتے ، لوگوں کی خدمت اور ان کی رہنمائی کرنا ان کا فطری جذبہ تھا۔ وہ ہمارے لیے ایک مثالی شخصیت تھے۔
تقریب کے انعقاد پر احمد شاہ اور ان کی ٹیم کا دل سے شکریہ گزار ہوں۔ اویس ادیب انصاری نے کہا کہ جس طرح عابد رضوی نے انجمنِ ترقیٔ اردو کو نئی جہت دی اور اسے ایک معتبر ادارے کے طور پر آگے بڑھایا، وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ لکھنؤ کی تہذیب، شائستگی، حسنِ سلوک اور محبت کی روایتیں ان کی شخصیت میں نمایاں تھیں۔ اتنا خلوص، محبت اور احترامِ انسانیت والے انسان کم ملتے ہیں۔
