حادثات میں زندگیاں ضایع ہونے کے پیچھے جلد بازی، غفلت اور ٹریفک قوانین سے لاپروائی بنیادی وجوہات ہیں:سعدیہ راشد
کراچی: سندھ پولیس صوبے بھر میں ٹریفک قوانین کے نفاذ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھا رہی ہے، جس کے مثبت اثرات نہ صرف ٹریفک نظم و ضبط بلکہ اسٹریٹ کرائم میں کمی کی صورت میں بھی سامنے آرہے ہیں۔ درست بات کرنے اور صحیح عادت اپنانے کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ بچے بھی ٹریفک قوانین کے حوالے سے اپنے والدین کی اصلاح کرسکتے ہیں۔ آیندہ ہمارے تمام اقدامات مزید جدید ٹیکنالوجی سے مزین ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار ایس ایس پی سندھ پولیس ویسٹ محمد اعظم جمالی نے گزشتہ روز بیت الحکمہ آڈیٹوریم، مدینۃ الحکمہ میں منعقدہ ہمدرد نونہال اسمبلی کے اجلاس بعنوان ’’روڈ سینس اپنائیں، زندگیاں بچائیں‘‘ سے بہ طور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس کی صدارت ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر سعدیہ راشد نے کی۔
ایس ایس پی ویسٹ محمد اعظم جمالی نے کہا کہ ہمدرد نونہال اسمبلی کا پلیٹ فارم منفرد اہمیت کا حامل ہے اور یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ مجھے اس اہم اجلاس میں مدعو کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی ہمیشہ انفرادی سطح سے شروع ہوتی ہے، اس لیے طلبہ کو ٹریفک قوانین اور روڈ سیفٹی کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت اور سندھ پولیس جدید ای چالان، سیف سٹی کیمروں، آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن سسٹم اور ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کے ذریعے ٹریفک نظم و ضبط بہتر بنانے کے اقدامات کررہی ہیں تاکہ شفافیت، قانون کی بالادستی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ ای چالان نظام کے ذریعے وی آئی پی کلچر کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے اور قانون کی یکساں عملداری کو فروغ ملا ہے۔ سندھ حکومت کراچی سمیت دیگر شہروں میں جدید کیمروں اور ڈیجیٹل ٹریفک مانیٹرنگ کے دائرہ کار کو مزید وسعت دے رہی ہے تاکہ حادثات اور ٹریفک خلاف ورزیوں میں کمی لائی جاسکے۔
ایس ایس پی ویسٹ نے کہا کہ یہ عام مشاہدہ ہے کراچی میں موٹر سائیکل سوار اکثر غیر ذمےداری کا مظاہرہ کرتے ہیں، جس کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں۔ ہیلمٹ کا استعمال، لین ڈسپلن، رفتار پر قابو اور ٹریفک سگنلز کی پابندی ہر شہری کی اخلاقی اور قانونی ذمےداری ہے۔ سندھ پولیس وقتاً فوقتاً آگاہی مہمات، تعلیمی پروگرامز اور روڈ سیفٹی سیمینارز کا انعقاد کرتی رہتی ہے تاکہ شہریوں میں ٹریفک شعور پیدا کیا جاسکے۔
سعدیہ راشد نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ زندگی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سب سے قیمتی نعمت ہے۔ ایک انسان کی جان صرف اس کی اپنی نہیں ہوتی بلکہ اس سے والدین کی امیدیں، ماں کی دعائیں اور قوم کا مستقبل وابستہ ہوتا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود ملک میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات لمحۂ فکریہ ہیں، جو ہم سب کو اپنی توجہ اس جانب مبذول کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ہر حادثے میں قیمتی زندگیاں ضائع ہورہی ہیں اور اس کے پیچھے جلد بازی، غفلت اور ٹریفک قوانین سے لاپروائی بنیادی وجوہات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹریفک حادثات کا الزام کسی ایک پر نہیں ڈالا جاسکتا بلکہ ہم سب کے عمومی رویے اس کے ذمےدار ہیں۔ لہٰذا انسانی رویوں میں اعتدال، برداشت اور احساسِ ذمےداری پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے نونہالوں کو نصیحت کی کہ وہ ابھی سے ذمےدار شہری بننے کی عادت اپنائیں۔ سڑک عبور کرتے وقت احتیاط کریں، جلد بازی سے گریز کریں اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں، دوستوں اور والدین کو بھی ٹریفک قوانین پر عمل کرنے کی تلقین کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مہذب اور با شعور معاشرے کی بنیاد اچھے انفرادی رویوں سے ہی رکھی جاسکتی ہے۔
انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ طلبہ میں ٹریفک شعور، قانون کی پاسداری اور روڈ سیفٹی کے حوالے سے آگاہی پیدا کریں تاکہ آیندہ نسلیں زیادہ محفوظ، مہذب اور قانون پسند معاشرہ تشکیل دے سکیں۔
نونہال مقررین اسمارا راحیل، منہاج الکبری، محمد یعقوب ملک، ابشام، عائشہ فواد (قائد ایوان) اور جائشہ احمر (قائد حزبِ اختلاف) نے اپنی تقاریر میں کہا کہ مہذب معاشروں کی پہچان ان کے ٹریفک شعور اور قوانین کی پابندی سے ہوتی ہے۔ قوانین پر عمل درآمد کرانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمےداری ہے، تاہم شہریوں پر بھی لازم ہے کہ وہ صبر، برداشت، احتیاط اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں۔
اجلاس میں روز ہاؤس گرامر اسکول کے طلبہ نے ٹریفک آگاہی پر مبنی تھیٹر پیش کیا، جبکہ تقریب کا اختتام دعائے سعید پر ہوا جو ہمدرد پبلک اسکول اور ہمدرد ولیج اسکول کے طلبہ نے پیش کی۔
