ریل مزدور محاذ پاکستان نے چھوٹے ملازمین سے گھر خالی کرانے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کردیا

ریل مزدور محاذ پاکستان نے چھوٹے ملازمین سے گھر خالی کرانے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کردیا

کراچی: ریل مزدور محاذ پاکستان کے رہنماؤں صدر محمد نسیم راؤ، مرکزی چیئرمین منظور احمد ملاح، دلبر خان مگسی، صابر حسین تنولی، شکیل اعوان، عبد الحمید بلوچ، نیاز حسین خاصخیلی، وحید اسلم، اعجاز علی، عبدالقادر سولنگی، بلاول سھتو، امیر بخش بلوچ، مظہر شاہ، شاہنواز سولنگی اور دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں کراچی ڈویژن میں چھوٹے ملازمین کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک، میرٹ اور ترجیحی اصولوں کی خلاف ورزی اور ملازمین کو درپیش رہائشی مسائل پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔

رہنماؤں نے کہا کہ کراچی ڈویژن میں خصوصاً ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ کے دفتر میں چھوٹے ملازمین کو اپنے جائز حقوق اور رہائشی کوارٹرز کے حصول کے لیے بار بار دفاتر کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں۔ ملازمین کا مؤقف ہے کہ میرٹ اور پرائرٹی کے مطابق کوارٹرز کی الاٹمنٹ کے معاملات طویل عرصے سے زیرِ التوا ہیں، جبکہ بعض ایسے فیصلے بھی سامنے آ رہے ہیں جن سے ملازمین میں شدید بے چینی اور احساسِ محرومی پیدا ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ ریلوے کے پالیسیز، قواعد و ضوابط اور ملازمین کے جائز حقوق کو نظرانداز کرنے کی شکایات مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ اس کی ایک واضح مثال کراچی ریتی لائن نیو بلاک کے رہائشی کوارٹرز سے متعلق حالیہ احکامات ہیں، جن کے تحت مبینہ طور پر ایسے ملازمین سے کوارٹرز خالی کرانے کی ہدایات دی گئی ہیں جو طویل عرصے سے اپنی فیملیز کے ساتھ ان رہائش گاہوں میں مقیم ہیں اور جنہیں یہ کوارٹرز سابقہ مجاز اتھارٹی، یعنی ڈی ایس (Divisional Superintendent) کی جانب سے باقاعدہ طور پر الاٹ کیے گئے تھے۔

رہنماؤں نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی ملازم کو مجاز اتھارٹی نے قواعد و ضوابط کے تحت رہائشی کوارٹر الاٹ کیا ہے اور وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ وہاں رہائش پذیر ہے تو اسے اچانک بے دخل کرنے کا جواز کیا ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسی بھی ملازم کے خلاف کارروائی سے قبل اس کی الاٹمنٹ، سروس ریکارڈ، پرائرٹی اور تمام متعلقہ دستاویزات کا مکمل جائزہ لیا جائے اور اسے قانونی و محکمانہ ضابطے کے مطابق اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔

ریل مزدور محاذ پاکستان کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ ایک طرف چھوٹے ملازمین میرٹ اور پرائرٹی کی بنیاد پر کوارٹرز کے حصول کے لیے روزانہ دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایسے کوارٹرز، جن کے بارے میں ملازمین کا مؤقف ہے کہ وہ بنیادی طور پر نچلے گریڈ کے ملازمین کی رہائش کے لیے مختص تھے، ان پر افسران کی جانب سے بھی دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ اگر افسران کے لیے الگ رہائشی سہولیات اور قواعد موجود ہیں تو چھوٹے ملازمین کے لیے مختص رہائش گاہوں پر ان کے دعووں کی مکمل قانونی اور محکمانہ جانچ ہونی چاہیے۔

رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کے محنت کش پہلے ہی مہنگائی، محدود آمدنی اور دیگر معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں ان سے سر چھپانے کی بنیادی سہولت بھی چھیننے کی کوشش کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ریلوے کے کوارٹرز ملازمین کی سہولت اور فلاح کے لیے ہیں، انہیں ملازمین کے لیے مزید مشکلات کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔

ریل مزدور محاذ پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی وزیرِ ریلوے، چیئرمین ریلوے اور چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلوے اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، کراچی ڈویژن میں کوارٹرز کی الاٹمنٹ اور بے دخلی سے متعلق تمام فیصلوں کا شفاف اور غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے، میرٹ اور پرائرٹی کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی ایسے اقدام کو فوری طور پر روکا جائے جس سے چھوٹے ملازمین یا ان کے خاندان متاثر ہوں۔

رہنماؤں نے واضح کیا کہ ملازمین کے جائز حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ریل مزدور محاذ پاکستان ہر سطح پر اپنے محنت کش ساتھیوں کے حقوق، عزت اور روزگار کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں