اپناگھر ہاؤسنگ اسکیم کے تحت 22 ارب روپے سے زائد کی فنانسگ درخواستیں موصول ہوچکی ہیں:سی ای او میزان بینک
کراچی: میزان بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سید عامر علی نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی اپناگھر ہاؤسنگ اسکیم کے تحت 22 ارب روپے سے زائد کی فنانسگ کی درخواستیں موصول ہوچکی ہیں جبکہ میران بینگ اب تک تقریبا 14 فیصد رقم فراہم کرچکاہے۔
چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے کہا کہ تعمیراتی صنعت کے فروغ کیلیے کراچی سمیت ملک بھر میں تعمیراتی زونز بنائے جائیں،پاکستان میں زرمبادلہ لانے کے لیے اوور سیز پاکستانیوں کے لیے ہاؤسننگ سہولتوں کو آسان اور موثر بنایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے آباد ہاؤس میں بینکنگ فنانس کے فروغ کے حوالے سے آباد ہاؤس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر آباد کے سینئر وائس چئرمین سید افضل حمید،وائس چیئرمین طارق عزیز،چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی اور بلڈرز اور ڈیولپرز کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
صدر میزان بینک سید عامر علی نے مزید کہاکہ بلڈرز اور ڈیولپرز ملک میں تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کررہے ہیں،پاکستان میں ایک کروڑ 40 لاکھ رہائشی یونٹس کی کمی ہے جس کی بڑی وجہ مارکیٹ میں تیار گھروں کی کمی ہے،وزیراعظم ہاؤسنگ اسکیم درست وقت پر متعارف کرائی گئی ہے، اس اسکیم کے تحت فنانسنگ کی شرح صرف 5 فیصد ہے جو تقریبا ایک عام گھر کے کرایے کے برابر بنتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہاءوسنگ فنانسنگ میں میزان بینک کا بہت بڑا حصہ ہے۔انھوں نے کہا کہ تعمیراتی مٹیریل کی قیمتوں میں اضافے اور صارفین سے اقساط مین وصولی میں مسائل کے باعث بعض بلڈرز اپنے تعمیراتی منصوبے مقررہ وقت پر مکمل نہیں کرپاتے تاہم ہاؤسنگ فننانسنگ کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے،جو منصوبے تاحال مکمل نہیں ہوئے میزان بینک ان کیلیے بھی فنانسنگ فراہم کرنے پر غور کرے گا۔
سید عامر علی نے تجویز دی کہ آباد ہاؤسنگ فنانس کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے تاکہ مستحق اور قابل اعتماد بلڈرز کا تعین آسان ہو سکے۔ کمیٹی میں وکلاء کی نمائندگی بھی یقینی بنائی جائے تاکہ قانونی پیچیدگیوں اور دیگر مراحل کو مؤثر انداز میں حل کیا جا سکے۔
اس موقع پر چیئرمین آباد نے کہا نے کہا کہ گزشتہ حکومت میں ہاؤسنگ سیکٹر حکومت کی ترجیحات میں شامل تھا، امید ہے کہ موجودہ حکومت بھی ہاؤسنگ کے فروغ کے لیے بہترین فیصلے کرے گی۔انھوں نے کہا کہ بینکوں کے ذریعے 30 سے 40 ہزار ہاؤسنگ فنانس کی درخواستیں منظور ہوچکی ہیں، تاہم ان کے مقابلے میں ہاؤسنگ یونٹس کی سپلائی کم ہے۔ آباد نے ہمیشہ وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والی میٹنگز میں سپلائی سائیڈ کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ صارف سے 30 سال تک رقم وصول کی جائے اور عمارت بھی 30 سال میں مکمل ہو، ہاؤسنگ منصوبوں کی بروقت تکمیل انتہائی ضروری ہے۔محمد حسن بخشی نے کہا کہ ایک کروڑ سے زائد پاکستانی بیرون ممالک مقیم ہیں انھیں پاکستان میں گھر بنانے اور سرمایہ کاری کے بہتر موقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حسن بخشی نے کہا کہ پاکستان میں پہلی بار زیر تعمیر عمارتوں کو بھی ہاؤسنگ فنانس کی سہولت ملنے جا رہی ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ انھوں نے بلڈرز اور عوام پر زور دیا کہ وہ ہاؤسنگ فنانس کی اسکیم سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ انھوں نے آباد کے بلڈرز کو میزان بینک کے ساتھ کاروباری روابط بڑھانے اور ہاؤسنگ فنانس کے فروغ میں کردار ادا کرنے کی ہدایت بھی کی۔
چیئرمین آباد نے کہا کہ اگر منصوبے مقررہ وقت پر مکمل ہوں گے تو عوام کا بلڈرز پر اعتماد مزید بحال ہوگا۔ انھوں نے بتایا کہ آباد ہاؤسنگ فنانس کے حوالے سے خصوصی ڈیسک قائم کرنے جا رہا ہے، جہاں بلڈرز اور عوام کو رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ پاکستان میں تقریباً 14 ملین گھروں کی کمی ہے، جسے پورا کرنے کے لیے حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
