صوبے بنانے کا اختیار آئین کے مطابق اسمبلیوں کے پاس ہے:سعید غنی
صوبائی وزیر محنت و سماجی تحفظ سعید غنی اور سینیٹر وقار مہدی کی پریس کانفرنس
سعید غنی نے کہا کہ پنجاب کے وزراء نے پریس کانفرنس میں جو باتیں کیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید وہ کبھی سندھ آئے ہی نہیں۔ پنجاب کے نوجوان اراکین اسمبلی سندھ آئے تھے، انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کی اور کہا کہ کراچی ویسا نہیں جیسا ہمیں بتایا جاتا ہے۔ انہوں نے کراچی پورٹ کے ریونیو کے حوالے سے بات کی، لیکن انہیں یہ معلوم نہیں کہ بندرگاہیں وفاقی حکومت کے اختیار میں ہوتی ہیں۔ پنجاب کے عوام کو بہتر علاج کی ضرورت ہے، اور سندھ میں صحت کے شعبے میں جو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، وہ سب کے لیے موجود ہیں۔
صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی میں ایک ہی چھت کے نیچے دل کے تمام امراض کا علاج کیا جاتا ہے، دنیا میں اس طرز کا نظام کہیں اور موجود نہیں۔ پنجاب کے دو وزراء پریس کانفرنس کر رہے تھے، میں انہیں ذاتی طور پر نہیں جانتا۔ کچھ دن پہلے ینگ پارلیمنٹیرینز کا وفد سندھ آیا تھا، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل تھے۔ سلم لیگ (ن) کے ایک رکن نے بتایا کہ کراچی جیسا ہمیں بتایا جاتا ہے، حقیقت میں ویسا نہیں ہے۔ ن لیگی وزراء مریم نواز کے دائرۂ نظر میں رہ کر سوچتے ہیں۔ اگر کراچی پورٹ کے معاملات پر بات کی جاتی ہے تو یہ دراصل اپنی ہی وفاقی حکومت کو چارج شیٹ کرنے کے مترادف ہے۔ سرگودھا میں دل کا اسپتال بنانا اچھی بات ہے، ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
سعید غنی نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی دنیا کے بہترین دل کے اسپتالوں میں شامل ہے، یہاں جتنا دل کا علاج ہوتا ہے، اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ پنجاب سے ایک لاکھ انیس ہزار مریض آئے اور انہوں نے این آئی سی وی ڈی میں مفت علاج کروایا۔ پنجاب کے لوگ دل کی پیوندکاری (ٹرانسپلانٹ) کے لیے بھی سندھ آتے ہیں۔ حالیہ بجٹ میں صوبائی بجٹ پر کافی دباؤ آیا، لیکن ہم نے اخراجات کو قابو میں رکھا، جبکہ پنجاب نے اپنے اخراجات میں بارہ فیصد اضافہ کیا۔ پنجاب سندھ سے رقبے کے لحاظ سے بڑا صوبہ ہے۔ سندھ حکومت نے اپنے وسائل سے 676 ارب روپے کی کلیکشن کی۔ پنجاب نے 524 ارب روپے اکٹھے کیے۔ پنجاب قرضہ دے کر لوگوں کے گھر بنا رہا ہے، جبکہ سندھ حکومت مفت میں 21 لاکھ گھر بنا رہی ہے اور خواتین کو مالکانہ حقوق دیے جا رہے ہیں۔ کراچی واحد شہر ہے جہاں پینے کا پانی 200 کلومیٹر دورسے لایا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اجازت دی کہ کراچی میں سات ہائیڈرنٹس چلائے جائیں۔ صوبے بنانے کا اختیار آئین کے مطابق اسمبلیوں کے پاس ہے۔
صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نہیں بلکہ منتخب نمائندے کہتے ہیں کہ ہمیں کسی نئے صوبے کی ضرورت نہیں ہے۔ سینیٹ نے دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور کی تھی کہ پنجاب میں بھی صوبے بننے چاہئیں۔ پنجاب کے لوگ چاہتے ہیں کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بننے چاہئیں۔ جمہوریت پر لیکچر اگر پیپلز پارٹی نہیں دے گی تو کیا مسلم لیگ (ن) دے گی؟ کیا پھر یہ حق ضیاءالحق اور پرویز مشرف جیسے آمروں کو دے دیا جائے گا؟ ہمارے لوگوں نے آمروں سے لڑ کر اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو چاہتے تو اپنی جان بچا سکتے تھے، لیکن انہوں نے آمریت کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں ماضی میں دھاندلی کے الزامات کی زد میں رہی ہیں۔نواز شریف معاہدہ کرکے دس سال کے لیے ملک سے باہر چلے گئے تھے۔بچے بچے کو معلوم ہے کہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز انتخابات میں کامیاب نہیں ہوئے بلکہ دھاندلی کے ذریعے اقتدار حاصل کیا گیا۔
سعید غنی نے کہا کہ جو لوگ خیرات میں ملنے والی نشستوں پر بیٹھے ہیں، وہ ہم پر تنقید کرتے ہیں، جو لوگ چوری شدہ مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار میں آئے ہیں، وہ خود کو سب سے زیادہ دیانتدار اور شریف قرار دیتے ہیں، اگر کوئی ہمارے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالے گا تو ہم اس کے خلاف آواز بلند کریں گے، ہم ان کے چہروں سے پارسائی اور معصومیت کے نقاب ہٹاتے رہیں گے،یہ لوگ عوامی حمایت کے بجائے مانگے تانگے کی حکومت میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اگر ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ملک توڑنے کا کوئی حقیقی مقدمہ ہوتا تو انہیں ایک جھوٹے مقدمے میں پھانسی دینے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ بلاول بھٹو زرداری نے جس انداز اور جذبے کے ساتھ کشمیر میں انتخابی مہم چلائی، وہ قابلِ تحسین ہے۔ ہم کشمیر کے عوام کے حقِ حاکمیت، حقِ روزگار اور دیگر بنیادی مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ کشمیر کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ وہاں کے عوام کے ووٹ کی حرمت کو بار بار پامال کیا جاتا ہے۔
