وزیراعلیٰ نے اعظیم پورہ فلائی کو ٹریفک کے لیے کھول دیا

وزیراعلیٰ نے اعظیم پورہ فلائی کو ٹریفک کے لیے کھول دیا

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اتوار کے روز نو تعمیر شدہ عظیم پورہ فلائی اوور کا افتتاح کر دیا۔ یہ اہم شہری انفراسٹرکچر منصوبہ شاہراہِ بھٹو، شاہ فیصل کالونی، شاہراہِ فیصل اور جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے درمیان ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے تعمیر کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ اور میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب بھی موجود تھے۔

وزیراعلیٰ نے باقاعدہ طور پر فلائی اوور کو ٹریفک کے لیے کھول دیا اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ کے ایم سی نے 100 دن کی مقررہ مدت کے مقابلے میں یہ منصوبہ ریکارڈ 90 دنوں میں مکمل کیا۔ واضح رہے کہ منصوبے پر 8 مارچ 2026 کو کام کا آغاز ہوا تھا، جو 8 جون 2026 کو مکمل ہوا، جبکہ اس کا باضابطہ افتتاح 14 جون کو کیا گیا۔ سندھ حکومت کے محکمہ بلدیات کی مالی معاونت سے کے ایم سی کی جانب سے مکمل کیے گئے عظیم پورہ منصوبے پر مجموعی طور پر 1.562 ارب روپے لاگت آئی۔ منصوبے میں فلائی اوور کی تعمیر، سڑکوں کی توسیع و بحالی، نکاسیٔ آب کے نظام کی بہتری، برقی کام، فٹ پاتھوں کی تعمیر، درمیانی حفاظتی رکاوٹیں (میڈین بیریئرز) اور عظیم پورہ چورنگی کی ازسرنو ڈیزائننگ شامل ہے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ منصوبہ روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں شہریوں کے لیے نقل و حرکت کو نمایاں طور پر خصوصاً کورنگی، شاہ فیصل کالونی، ملیر، شاہراہِ بھٹو اور کراچی ایئرپورٹ کے درمیان سفر کرنے والوں کے لیے بہتر بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عظیم پورہ فلائی اوور کراچی کے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور شہریوں کو محفوظ، تیز اور مؤثر سفری سہولیات فراہم کرنے کی جانب ایک اور اہم قدم ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ نیا راستہ شہر کے مصروف ترین چوراہوں میں سے ایک ہے اور یہ منصوبہ ٹریفک کے دباؤ کو کم کرے گا اور شاہراہِ بھٹو سے شاہ فیصل، شاہراہِ فیصل اور جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک براہِ راست رابطہ فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معیشت کا مرکز ہے اور اس کے ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی بہتری اقتصادی ترقی، عوامی سہولت اور شہری ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب اور کے ایم سی کی انجینئرنگ ٹیم کو مقررہ وقت میں منصوبہ مکمل کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے منصوبے کو صرف 90 دنوں میں مکمل کرنا ہمارے بلدیاتی اداروں کے عزم اور صلاحیت کا ثبوت ہے۔ کراچی کے عوام جدید انفراسٹرکچر کے مستحق ہیں اور ہم ایسے منصوبوں میں سرمایہ کاری جاری رکھیں گے جو ان کے معیارِ زندگی کو بہتر بنائیں۔

منصوبے کی تفصیلات کے مطابق اس اسکیم میں 700 میٹر طویل دو رویہ فلائی اوور، 1,255 میٹر دو رویہ مرکزی سڑک (مین کیرج وے) اور عظیم پورہ روڈ، شاہراہِ بھٹو، شاہ فیصل اور ٹھنڈی سڑک کو ملانے والی اضافی زمینی سڑکیں شامل ہیں۔ اس منصوبے میں تقریباً 2,075 میٹر طویل نکاسیٔ آب کے نظام کی بحالی، 850 میٹر فٹ پاتھ، نئی چورنگی، درمیانی حفاظتی رکاوٹیں (سینٹر میڈین بیریئرز) اور 93 کھمبوں اور 157 جدید لائٹس پر مشتمل جامع اسٹریٹ لائٹنگ سسٹم بھی نصب کیا گیا ہے۔

وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ یہ منصوبہ علاقے میں شدید ٹریفک جام، خستہ حال سڑکوں اور ناکافی نکاسیٔ آب کے مسائل کے حل کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ مکمل ہونے کے بعد یہ منصوبہ ٹریفک مینجمنٹ کو بہتر بنانے، سفری وقت کم کرنے اور رہائشیوں، کاروباری طبقے اور ایئرپورٹ جانے والے مسافروں کے لیے آسان رسائی فراہم کرے گا۔

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ یہ منصوبہ شہری انفراسٹرکچر اور عوامی خدمات میں نمایاں بہتری لانے کے لیے شہر کی انتظامیہ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت کراچی کو ایک جدید، فعال اور مؤثر میٹروپولیٹن شہر بنانے کے لیے انفراسٹرکچر منصوبوں کی بھرپور حمایت جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا وژن ایک ایسا کراچی ہے جہاں آمد و رفت آسان ہو، سفر محفوظ ہو اور عوامی انفراسٹرکچر بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کے مطابق ہو۔ عظیم پورہ فلائی اوور جیسے منصوبے اسی وسیع تر وژن کا حصہ ہیں۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں