غلط ڈیٹا شیئر کرنے پر وزیر تعلیم سندھ کا سینیئر صحافی سے معافی مانگنے کا مطالبہ

غلط ڈیٹا شیئر کرنے پر وزیر تعلیم سندھ کا سینیئر صحافی سے معافی مانگنے کا مطالبہ

کراچی: سندھ کے وزیر تعلیم سردار شاہ نے سینیئر صحافی کی جانب سے غلط ڈیٹا شیئر کرنے پر ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ دو روز قبل ملک کے مایہ ناز صحافی نے ایک سندھ کے محکمہ تعلیم کا غلط  ڈیٹا شیئر کیا، سندھ اسمبلی میں فریال تالپور نے وحدت سندھ کے حوالے سے بات کی تھی لیکن سینیئر صحافی نے شعبہ تعلیم کے ڈیٹا اور فریال تالپور کے بیان کو لنک کیا تھا۔دوسرا پہلو جذباتی بھی اور سیاسی بھی تھا، سندھ کے 6 کروڑ لوگوں نے مشترکہ و متفقہ آواز بلند کی، سینیئر صحافی اس بات پر معافی مانگیں، پروفیشنلزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو سندھ کے لوگوں سے معذرت کرنی چاہیے تھی۔ سیاسیخبریں پڑھیں

وزیرتعلیم سید سردار شاہ نے کہا کہ موجودہ تعلیمی مسائل کو صرف ایک صوبے یا ایک زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا، پاکستان میں تعلیمی نظام کو درپیش مسائل 1947 سے آج تک مختلف پیچیدگیوں کے ساتھ موجود رہے ہیں۔2021-22 کی بھرتیوں کے بعد بڑی تعداد میں پڑھے لکھے اور کوالیفائیڈ افراد میرٹ اور شفاف طریقہ کار کے ذریعے محکمۂ تعلیم کا حصہ بنے، تعلیم کے مسئلے کو صرف ایک صوبے تک محدود کرکے نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ پورے پاکستان کے تعلیمی نظام کا جائزہ لینا چاہیئے۔ تاریخیکتابیں دریافت کریں

صوبائی وزیر سردار شاہ نے کہا کہ یہ معاملہ صرف سندھ تک محدود نہیں ہے، اگر سندھ کے بچوں کے اسکول سے باہر ہونے کا مسئلہ نظر آتا ہے تو پنجاب سمیت ملک کے دیگر صوبوں میں کیوں نظر نہیں آتا، 97 ہزار اساتذہ میرٹ پر بھرتی کیے گئے ہیں۔پنجاب میں بھی ایک کروڑ سے زائد بچوں کے اسکول سے باہر ہونے کے اعداد و شمار سامنے آ چکے ہیں، راولپنڈی میں نویں جماعت کے 181 اسکولز کے بچے فیل ہوگئے۔کم از کم ہم اتنا تقاضا کرتے ہیں کہ تعریف نہیں کر رہے اور تنقید بھی نہ کریں، نیشنل پالیسی کے اور بھی مسائل ہیں اس پر گفتگو کریں، صوبوں کی باتیں ہو رہی تھیں اس میں ٹیچرز کی باتیں کہاں سے آگئیں۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں