نیو کراچی ٹاؤن میں ترقیاتی کاموں کا سلسلہ جاری، چیئرمین محمد یوسف نے 9 نئی سڑکوں کا افتتاح کر دیا
کراچی: چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے سیکٹر11-F یونین کونسل 10 میں نذیر ساجد اسٹریٹ اور سیکٹر 5-F یونین کونسل 5 میں نو تعمیر شدہ سڑک سید عبدالرشیداسٹریٹ کا افتتاح کر دیا۔ منصوبے کے تحت سیکٹر 11 ایف میں پانچ جبکہ سیکٹر 5-F میں چار سڑکوں کی کارپیٹنگ مکمل کی گئی۔
افتتاحی تقریبات میں وائس چیئرمین شعیب بن ظہیر، مختلف یونین کمیٹیوں کے چیئرمین، وائس چیئرمین، کونسلرز، ٹاؤن افسران اور شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
اس موقع پر چیئرمین محمد یوسف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام سے کیے گئے انتخابی وعدوں کو عملی شکل دی جا رہی ہے۔ سندھ حکومت نے گزشتہ تین برس کے دوران ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک روپیہ بھی فراہم نہیں کیا، اس کے باوجود نیو کراچی ٹاؤن میں ہر روز نئے ترقیاتی منصوبے مکمل ہو رہے ہیں۔ ٹاؤن انتظامیہ اپنے اختیارات سے بڑھ کر عوام کی خدمت کر رہی ہے،جبکہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کارپوریشن و سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈکے دائر اختیار کے کاموں پر بھی عوامی مفاد میں ٹاؤن کے وسائل سے 10 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں مسلسل نظرانداز کیے جانے کے باعث نیو کراچی ٹاؤن کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا تھا، جسے مرحلہ وار بحال کیا جا رہا ہے۔ صرف سیکٹر5-F میں سو سے زائد گلیاں پیور بلاک سے تعمیر کی جا چکی ہیں جبکہ پانی اور سیوریج کے متعدد مسائل بھی حل کیے گئے ہیں۔عوام کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ ٹاؤن انتظامیہ کی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔
چیئرمین محمد یوسف نے سندھ حکومت کے ماتحت اداروں، واٹر اینڈ سیوریج بورڈکارپوریشن، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کمپنی کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے شہریوں کو معیاری سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام ہیں، لیکن بلوں کی وصولی مسلسل جاری ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ عوام کے حقوق کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کی جائے گی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ پانی، سیوریج، صفائی ستھرائی، سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور دیگر بنیادی شہری سہولتوں سے متعلق تمام ادارے منتخب بلدیاتی حکومتوں کے ماتحت کیے جائیں تاکہ اختیارات اور ذمہ داری ایک ہی نظام کے تحت ہوں اور عوام کے مسائل بروقت حل ہو سکیں۔
آخر میں انہوں نے میئرکراچی مرتضیٰ وہاب سے مطالبہ کیا کہ شفیق موڑ تا اللہ والی چوک (سات ہزار روڈ) کی فوری تعمیر شروع کی جائے، کیونکہ یہ شاہراہ گزشتہ تین برس سے نظرانداز ہو رہی ہے اور ہزاروں شہری روزانہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
