آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام شاعر عزیز حامد مدنی کی سالگرہ تقریب کا انعقاد

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام شاعر عزیز حامد مدنی کی سالگرہ تقریب کا انعقاد

کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام معروف شاعر، محقق اور نقاد عزیز حامد مدنی کی 104 ویں سالگرہ کے موقع پر اُن کی یاد میں ایک تقریب کا انعقاد جوش ملیح آبادی لائبریری میں کیا گیا جس کی صدارت اردو زبان کے ممتاز نقاد، جدید اردو غزل کے اہم شاعر پروفیسر سحر انصاری نے کی جبکہ عزیز حامد مدنی کی ادبی و فکری خدمات پر معروف تنقید نگار و شاعر مبین مرزا، ڈاکٹر فہیم شناس کاظمی اور معروف شاعرہ ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر نے اظہار خیال کیا۔

تقریب کی نظامت کے فرائض سلمان ثروت نے انجام دیے ۔ عزیز حامد مدنی کی یاد میں منعقدہ تقریب میں ان کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا۔ اس موقع پر مجلسِ صدارت پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ عزیز حامد مدنی کی شخصیت اپنے اندر بے شمار جہتیں سموئے ہوئے تھی، خوشی ہے تقریب میں عزیز حامد مدنی کے اہلِ خانہ کے افراد بھی موجود ہیں۔

عزیز حامد مدنی کی اصول پسندی اور علمی دیانت آج کے دور میں ناقابلِ یقین محسوس ہوتی ہے۔ عزیز حامد مدنی فرانسیسی شاعری کے تراجم کی اشاعت سے پہلے اصل ناشر سے باقاعدہ اجازت حاصل کرتے تھے۔ علمی امانت داری اور اصول پسندی کی ایسی مثالیں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں۔ عزیز حامد مدنی مشرق اور مغرب کے علمی و تہذیبی سرمائے کا ایک حسین امتزاج تھے۔

ان کی گفتگو میں یونانی اور رومی تاریخ کے حوالے بھی ہوتے تھے اور فارسی، عربی، انگریزی اور فرانسیسی ادب کا گہرا مطالعہ بھی جھلکتا تھا۔ عزیز حامد مدنی کی زندگی علم، وقار، اصول پسندی اور دوست نوازی کا ایک روشن استعارہ تھی۔انہوں نے بتایا کہ ایک گھریلو حادثے نے ان کی صحت کو متاثر کیا اور وہ کینسر جیسے مرض میں مبتلا ہو گئے، جس کے بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔مگر ان کا علمی و ادبی سرمایہ آج بھی زندہ ہے۔ ان کا کلام، چاہے نثر ہو یا نظم، اپنی فکری گہرائی، فنی پختگی اور فکری دیانت کے باعث دیرپا حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں نہ کوئی جھول ہے، نہ غفلت، نہ مایوسی اور نہ ہی معاشرتی بے حسی—بلکہ یہ ایک سنجیدہ، باوقار اور فکر انگیز ادبی ورثہ ہے جو آنے والی نسلوں تک قائم رہے گا۔ معروف تنقید نگار و شاعر مبین مرزا نے کہا کہ عزیز حامد مدنی کا ہمارے عہد، ہمارے ادب، ہماری تہذیب اور ثقافت پر جو قرض ہے، اسے اسی طرح ادا کیا جا سکتا ہے کہ ہم انہیں یاد رکھیں اور ان کے کام کو مکمل طور پر آنے والی نسلوں تک منتقل کریں۔ عزیز حامد مدنی ایک ایسے ترقی پسند ادیب اور شاعر تھے جو اپنے اختلاف، انحراف اور انفرادی شعور کے ساتھ ترقی پسند تھے۔وہ ترقی پسندوں میں پہلے مکمل جدید انسان اور مکمل جدید شاعر تھے۔ ان سے پہلے ترقی پسند تحریک شاید ایسا تخلیق کار پیدا نہیں کر سکی تھی جو جدید انسان کے شعور اور تجربے کی اس جامع صورت کو اپنی تخلیقات میں سمو سکا ہو۔

ڈاکٹر فہیم شناس کاظمی نے کہا کہ عزیز حامد مدنی کی لازوال، ہمہ گیر، وجدانی اور عرفانی شخصیت پر گفتگو ایک خوش آئند امر ہے۔ ان کی شاعری  تاریخی و تہذیبی شعور، زندگی، تاریخ اور انسانی فکر و شعور کے مختلف پہلو نمایاں طور پر جلوہ گر ہیں۔وہ ایسے شاعر ہیں جن کی مثال اردو ادب میں مشکل سے ملتی ہے۔ معروف شاعرہ ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر نے کہاکہ عزیز حامد مدنی ایک ایسی باوقار اور سنجیدہ شخصیت تھے جنہیں قریب سے دیکھنے اور ان سے ملاقات کا شرف مجھے اپنے والد کی بدولت حاصل ہوا۔ مدنی عزیز حامد جب ہمارے گھر تشریف لاتے تو ان کا کوٹ کندھے پر رکھنے کا منفرد انداز بہت متاثر کرتا تھا۔ ان کی گہری آنکھوں میں ذہانت اور تخلیقی بصیرت کی چمک نمایاں تھی۔مدنی عزیز حامد کی شفقت آج بھی ہمیں یاد ہے۔ کلیات کی اشاعت کے دوران مجھے مدنی کی ذاتی بیاض دیکھنے کا موقع ملا جس سے اندازہ ہوا کہ وہ اپنے تخلیقی کام کے حوالے سے کس قدر سنجیدہ اور محتاط تھے۔ کتابیں شائع ہونے کے باوجود وہ اپنے اشعار اور مصرعوں پر بار بار نظرثانی کرتے۔۔ ان کے نزدیک تخلیق ایک مسلسل ارتقائی عمل تھا، جس کی جھلک ان کی ادبی زندگی کے ہر مرحلے میں نظر آتی ہے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں