آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام معروف ناول نگار و شاعرہ نینا عادل کے دو ناول ’’مقدس گناہ‘‘ اور’’کوکھ‘‘ کی تقریبِ پذیرائی

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام معروف ناول نگار و شاعرہ نینا عادل کے دو ناول ’’مقدس گناہ‘‘ اور’’کوکھ‘‘ کی تقریبِ پذیرائی

کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام معروف ناول نگار و شاعرہ نینا عادل کے دو ناول ’’مقدس گناہ‘‘ اور’’کوکھ‘‘ کی تقریبِ پذیرائی منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت ممتاز شاعر و نقاد پروفیسر سحر انصاری نے کی، جبکہ ناولوں پر آرٹس کونسل ادبی کمیٹی (فکشن) کے چیئرمین اخلاق احمد، مظہر عباس، ڈاکٹر انعام ندیم، کاشف رضا، عفت نوید اور شائستہ مفتی و دیگرنے اظہارِ خیال کیا۔ اس موقع پر معروف شاعر افتخار عارف، نجیبہ عارف، محسن خان ، خالد جاوید ،عارف امام، عاطف توقیر، مجید اختر، عباس تابش، غضنفر ہاشمی اور عدیل زیدی کے خصوصی ویڈیو پیغامات بھی پیش کیے گئے۔

تقریب میں ادبی حلقوں، اہلِ قلم، شاعروں، ناول نگاروں اور دانشوروں کی بڑی تعداد شریک ہوئی جبکہ نظامت کے فرائض شکیل خان نے انجام دیے۔ بلوچستان سے آئے ہوئے ریاض ندیم نیازی نے نینا عادل کے حوالے سے اپنا منظوم کلام پیش کیا۔

اپنے ویڈیو پیغام میں معروف شاعر افتخار عارف نے کہا کہ حالیہ برسوں میں اردو ناول نگاری نے ایک شاندار دور دیکھا ہے اور متعدد اہم ناول منظرِ عام پر آئے ہیں۔ نینا عادل نئی نسل کی نمایاں شاعرہ ہونے کے ساتھ ایک منفرد ناول نگار بھی ہیں۔ ان کے ناول ’’مقدس گناہ‘‘ کو پاکستان اور بھارت دونوں میں غیرمعمولی پذیرائی ملی، جبکہ ان کا نیا ناول ’’کوکھ‘‘ اردو ناول کی تاریخ میں ایک منفرد اضافہ ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ نینا عادل وسیع مطالعے کی حامل ادیبہ ہیں اور مشرقی و مغربی ادب پر گہری نظر رکھتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریریں سنجیدگی سے پڑھی جاتی ہیں۔

تقریب کے صدر، ممتاز شاعر، نقاد اور ماہرِ تعلیم پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ جب کوئی ادیب کسی موضوع کو گہرائی سے محسوس کرتا ہے تو اس کی تمام تخلیقات میں ایک فکری تسلسل نمایاں ہوتا ہے۔ نینا عادل کے ناول بھی اسی فکری ربط کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں تاریخ، تہذیب، مذاہب، سماجی مسائل اور انسانی نفسیات ایک دوسرے سے جڑی ہوئی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’مقدس گناہ‘‘ تاریخ اور مذاہب کے تناظر میں اس تصور پر سوال اٹھاتا ہے کہ کس طرح بعض اوقات قتل و غارت کو بھی نیکی یا مقدس عمل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ناول کا عنوان ابتدا میں ایک خاص تاثر دیتا ہے، لیکن مکمل مطالعے کے بعد اس کے معنوی اور تاریخی دائرے کی وسعت سامنے آتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسان کی زندگی کسی ایک زاویے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کے بے شمار پہلو ہوتے ہیں، جنہیں نینا عادل نے کامیابی سے یکجا کیا ہے۔ ’’مقدس گناہ‘‘ کے مختلف حصوں میں نئے کردار اور نئے مناظر سامنے آتے ہیں، مگر ان سب کے درمیان مشترک رشتہ انسان کی تلاش ہے۔ نئی تخلیقات کو کھلے ذہن سے پڑھنے اور نئے ادبی تجربات کو سنجیدگی سے تنقیدی مباحث کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔آخر میں انہوں نے نینا عادل کو دونوں ناولوں کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔

معروف صحافی مظہر عباس نے کہا کہ صحافت روزمرہ کی تاریخ لکھتی ہے جبکہ ادب اور ناول دیرپا اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ’’مقدس گناہ‘‘ پڑھتے ہوئے مجھے کراچی کے سیاسی، سماجی اور تاریخی حالات کی بھرپور جھلک دکھائی دی۔ نینا عادل نے بے باکی اور حقیقت نگاری کے ساتھ ایسے موضوعات قلم بند کیے ہیں جن پر لکھنا آسان نہیں۔ ناول میں کراچی کی سیاست، مختلف سیاسی جماعتوں، تشدد، ریاستی پالیسیوں اور شہر کے پیچیدہ حالات کی حقیقت پسندانہ عکاسی کی گئی ہے، جبکہ بعض مقامات پر اسلوب میں سعادت حسن منٹو کی جھلک بھی محسوس ہوتی ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ نینا عادل کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق ادبی حلقوں میں وہ پذیرائی نہیں ملی جس کی وہ مستحق ہیں۔ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی ادبی کمیٹی (فکشن) کے چیئرمین اخلاق احمد نے کہا کہ میں عموماً نئی کتابیں تنقیدی نظر سے پڑھتا ہوں، تاہم ’’مقدس گناہ‘‘ میرے لیے ایک خوشگوار حیرت ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پہلے ایڈیشن میں پروف کی چند خامیاں موجود ہیں لیکن ناول کا مواد، مکالمے اور موضوع کی گہرائی ان کمزوریوں پر غالب آ جاتی ہے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں