28ویں آئینی ترمیم پر بحث ملک کے مستقبل کو کمزور کرے گا: نثار کھوڑو

28ویں آئینی ترمیم پر بحث ملک کے مستقبل کو کمزور کرے گا: نثار کھوڑو

کراچی:پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے کہا ہے کے 28 ویں آئینی ترمیم کے لئے مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کے پاس پارلیامنٹ میں دو تھائی اکثریت موجود ہی نہیں ہے اس لئے 28 ویں آئینی ترمیم پر بحث ملک کے مستقبل کو کمزور کرے گا، کے پی کے میں گورنر راج لمبے عرصے کے لئے نہیں ہے اور حکومت نے کے پی صورتحال کے لئے سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کئے ہیں اگر سیاسی جماعتیں کے پی میں کسی ایکشن پلان پر متفق ہوں تو کے پی میں گورنر راج ختم ہوسکتا ہے۔ان خیالات کا اظھار انہوں نے جمعے کے روز سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

اس موقعے پر کرکٹر سلیم یوسف کی صاحبزادی ایمن سلیم نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔

نثار کھوڑو نے کہا کے 28 ویں آئینی ترمیم کی باتیں قبل از وقت ہیں اور کسی بھی آئینی ترمیم کے لئے حکومت کو ایوان میں دو تھائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے جبکے مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کے پاس 28 ویں ترمیم کی منظوری کے لئے پارلیامنٹ میں دو تھائی اکثریت موجود نہیں ہے اگر وفاقی حکومت دیگر اتحادیوں کو بھی ساتھ ملا لے تو بھی حکومت کو دو تھائی اکثریت حاصل نہیں ہے اس لئے 28 ویں ترمیم پر بحث ملک کے مستقبل کو کمزور کرے گا۔

کے پی کے میں گورنر راج کے متعلق ایک سوال کے جواب میں نثار کھوڑو نے کہا کے کے پی کے کا مسئلہ آج کا نہیں کافی سالوں کا ہے اور آئین کے تحت جب کسی صوبے میں امن و امان کی صورتحال حد سے بگڑ جائے تو اس صوبے میں گورنر راج کا نفاذ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کے خیبر پختونخواہ میں صدر مملکت نے گورنر راج کی سمری پر دستخط وفاقی کابینا کی منظوری اور وزیراعظم کی ایڈوائیس پر کئے تاہم کے پی میں گورنر راج کا نفاذ لمبے عرصے کے لئے نہیں ہے۔ حکومت نے کے پی کی صورتحال کے متعلق سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کئے ہیں تاہم کے پی کے سابق وزیراعلی نے دھشتگردوں کا مقابلہ کرنے پر آمادگی ظاھر نہیں کی اور اگر سیاسی جماعتیں دھشتگردی کے خلاف کسی ایکشن پلان پر متفق ہوتی ہیں تو کے پی میں گورنر راج ختم ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کے ملک میں گورنر راج لگتے رہے ہیں اور پہلا گورنر راج تو سندھ میں 1951ع میں لگا تھا جبکے ماضی میں ضیاء الحق نے بھی صرف سندھ میں گورنر راج لگایا تھا۔ انہوں نے کہا کے عمران خان کی حکومت میں ٹی ٹی پی کو افغانستان کی جیلوں سے آزاد کراکے یہاں آباد کرایا گیا اور عمران خان کی حکومت نے تو طالبان اور ٹی ٹی پی سے معاھدے اور مذاکرات کئے اور اب بھی پی ٹی آئی دہشتگردوں کے خلاف کاروائی کے لئے آمادگی ظاھر نہیں کر رہی ہے۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کے مولانا فضل الرحمان کی جماعت بھت پرانی جماعت ہے اور مولانا صاحب نے سیاست میں بھت اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں اور کے پی صورتحال کے متعلق بھی کردار ادا کرنے کے لئے وفاقی حکومت اور اپوزیشن سمیت سب مولانا فضل الرحمان کے پاس گئے تاہم اب بھی مولانا فضل الرحمان سیاست اور سیاسی صورتحال میں کردار ادا کرسکتے ہیں کیوں کے انہوں نے دھشتگردوں کی کبھی حمایت نہیں کی ہے۔

نثار کھوڑو نے کہا کے نئے صوبے بنانے کا طریقہ آئین میں واضع کیا گیا ہے اور جب تک متعلقہ صوبے کی اسمبلی دو تھائی اکثریت سے نئے صوبے کے لئے قرارداد منظور نہیں کرتی تب تک نیا صوبہ نہیں بن سکتا۔

انہوں نے کہا کے سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کرکے یہ فیصلہ دے دیا ہے کے سندھ کو نیا صوبہ اور صوبے کی حدود میں تبدیلی نہیں چاہئے اس لئے نئے صوبے بنانے ہیں تو گلگت اور پنجاب میں بنائے جائیں اگر وہاں کی اسمبلی نئے صوبے چاہتی ہے تو وہاں بنائے جائیں۔ جو لوگ سندھ میں انتظامی یونٹس کی بات کر رہے ہیں ان کا انتظامی یونٹس کا مطلب کیا ہے ؟ کیوں کے سندھ میں تو ڈویزنوں کی صورت میں انتظامی یونٹس موجود ہیں اس لئے نئے صوبے اور انتظامی یونٹس کی باتیں بھونچال پیدا کرنے کے لئے کی جا رہی ہیں۔

اس موقعے پر کرکٹر سلیم یوسف کی صاحبزادی ایمن سلیم نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کے صدر آصف علی زرداری ، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور فریال تالپور کی قیادت پر اعتماد کرکے پیپلز پارٹی کا حصہ بننے جا رہی ہوں اور پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کرتی ہوں اور پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے ملک اور لوگوں کے لئے کام کروں گی کیوں کے پیپلز پارٹی نے خواتین کو مضبوط کیا ہے۔

اس موقعے پر نثار کھوڑو نے ایمن سلیم کو پارٹی میں شامل ہونے پر ویلکم کیا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں