آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں شخصیت، سوانحی خاکوں اور انٹرویوز پر مبنی کتاب ’’انیتا غلام علی‘‘ کی تقریبِ رونمائی
کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام معروف ماہرِ تعلیم، سماجی شخصیت اور دانشور انیتا غلام علی کی شخصیت، سوانحی خاکوں اور انٹرویوز پر مبنی کتاب کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی، جس کی صدارت مہتاب اکبر راشدی نے کی، جبکہ صادقہ صلاح الدین نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔
کتاب کی مرتبین گوہر تاج اور حمیرا اطہر بھی تقریب میں موجود تھیں۔ اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مہتاب اکبر راشدی، امینہ سید، عباس حسین، بیلا رضا جمیل، مونا نانا، مشہود رضوی، ڈاکٹر فائزہ زہرا، عتید ریاض اور گوہر تاج نے انیتا غلام علی کی شخصیت، علمی و تعلیمی خدمات اور زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ تقریب کی نظامت شبنم گل نے کی، جبکہ ادبی، علمی اور سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
صدارتی خطبے میں مہتاب اکبر راشدی نے کہا کہ انیتا غلام علی کی یادیں خوش بھی کرتی ہیں اور اداس بھی۔ ان کی محفل میں بیٹھنے والا ہنستا مسکراتا اور کچھ نہ کچھ سیکھ کر ضرور واپس آتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انیتا غلام علی عہدے یا منصب سے نہیں بلکہ اپنی ذات اور کردار سے بڑی شخصیت تھیں۔ مختلف ادوار میں مختلف سرکاری عہدوں پر ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، لیکن عہدوں کے فرق کے باوجود انیتا غلام علی کا رویہ ہمیشہ محبت، احترام اور اپنائیت پر مبنی رہا۔ ان کے مطابق کچھ لوگ اپنے عہدوں کی وجہ سے بڑے جانے جاتے ہیں، جبکہ کچھ اپنی ذات میں بڑے ہوتے ہیں، اور انیتا غلام علی اپنی ذات میں ایک بڑی شخصیت تھیں۔
صادقہ صلاح الدین نے کہا کہ انیتا غلام علی ہر معاملے میں تربیت اور سیکھنے کا پہلو تلاش کرلیتی تھیں۔ انہوں نے اساتذہ کے حقوق اور کالجز کی نیشنلائزیشن کے لیے انیتا غلام علی کی جدوجہد کو ان کی شخصیت کا اہم پہلو قرار دیا۔ لوگوں کے حقوق کے لیے جدوجہد، سندھ کے دیہی علاقوں، خواتین اور تعلیم کے لیے کام انیتا آپا کی زندگی کا اہم حصہ تھا۔ ان کی شخصیت میں ایسی کشش تھی کہ ایک مرتبہ استعفیٰ دینے کے ارادے سے ان کے پاس جانے کے باوجود ان کی گفتگو سے متاثر ہوکر وہ دو نئے کنٹریکٹس پر دستخط کرکے واپس آئیں۔ گوہر تاج نے کہا کہ یہ کتاب انیتا غلام علی کی شخصیت، خدمات اور ان سے وابستہ لوگوں کی یادوں کو محفوظ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ انیتا آپا نے علم کے فروغ، سماجی تبدیلی اور بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم اور بااختیار بنانے کے لیے بھرپور کام کیا۔ ان کی یہ خدمات ان کی زندگی کے بعد بھی جاری رہیں اور انہوں نے اپنی خطیر رقم اسکولوں کے لیے وقف کی۔
انہوں نے کہا کہ انیتا آپا کے انتقال کے بعد ان پر لکھنا ان کے لیے اپنے غم کو کم کرنے کا ذریعہ تھا، تاہم پھر خیال آیا کہ ان سے محبت اور عقیدت رکھنے والے دیگر افراد کو بھی ان کے بارے میں لکھنے اور اپنی یادیں بیان کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ اسی سوچ کے تحت مختلف لوگوں کے مضامین جمع کیے گئے اور یہ کتاب تشکیل پائی۔ کتاب میں انیتا غلام علی کی زندگی اور شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے تاکہ نئی نسل ان کی خدمات اور کردار سے واقف ہوسکے۔گوہر تاج نے حمیرا اطہر، زکیہ سرور، انیسہ ممتاز اور دیگر تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے کتاب کی تکمیل میں قلمی تعاون کیا۔ ان کے مطابق یہ کتاب سچائی، علمیت، دیانت داری اور حق گوئی کے لیے بہادری سے کھڑے ہونے والوں کے سفر کا تسلسل ہے۔
حمیرا اطہر نے کہا کہ کتاب کی تیاری کا خواب گوہر تاج نے آگے بڑھایا، جبکہ وہ خود 2015ء میں انیتا غلام علی پر بچوں کے لیے کتاب لکھ چکی تھیں۔ کتاب کی تیاری میں تعاون کرنے والے تمام افراد بالخصوص زکیہ سرور کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ کتاب دو لسانی ہے، جس میں انیتا غلام علی کے اہلِ خانہ کی انگریزی تحریروں کا اردو ترجمہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے تقریب میں شرکت کرنے اور اسے کامیاب بنانے پر تمام حاضرین کا بھی شکریہ ادا کیا۔ مونا نانا نے کہا کہ اس کتاب میں انیتا غلام علی کی شخصیت، زندگی کے تجربات اور یادوں کو خوبصورتی سے یکجا کیا گیا ہے۔ کتاب میں شامل مختلف کہانیاں اور واقعات ان کی شخصیت کے متعدد پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں اور قارئین کو ان کی زندگی اور خدمات سے روشناس کراتے ہیں۔ معروف رقاصہ شیما کرمانی نے کہا کہ انیتا غلام علی سے میرا رشتہ گھر جیسا تھا۔ وہ ایک ہمہ جہت اور باصلاحیت شخصیت تھیں، جو ہر شعبے میں مہارت رکھتی تھیں اور آج بھی ہمارے لیے ایک ہیرو کی حیثیت رکھتی ہیں۔
امینہ سید نے کہا کہ ایک مرتبہ انیتا غلام علی کے گھر گئی تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ میرا مینڈیٹ یہ ہے کہ میں ان اسکولوں میں تعلیم کا معیار بہتر بناؤں اور بچوں کو اچھی کتابیں پڑھنے اور سیکھنے کے مواقع فراہم کروں۔ ان کی اقدار، اصول اور کام کرنے کا طریقہ ہمارے لیے ایک مثال ہے۔ ڈاکٹر فائزہ زہرا نے کہا کہ انیتا غلام علی ایک نہایت باوقار شخصیت کی مالک تھیں۔ جب بھی ہم ان سے ملنے جاتے، ان کی محفل سے بہت کچھ سیکھ کر واپس آتے اور کئی دنوں تک گھر میں ان کا ذکر کرتے رہتے۔ ان کا حسِ مزاح بہت اعلیٰ تھا۔ وہ نہایت سادہ انداز میں ایسی بات کرتی تھیں کہ محفل میں موجود لوگ ہنسنے لگتے تھے۔
عباس حسین نے کہا کہ انیتا غلام علی ہمیشہ اس بات پر زور دیتی تھیں کہ انسان وقت پر اپنے کام پر جائے اور اپنی ذمہ داری پوری دیانت داری سے ادا کرے۔ ان کے نزدیک کام کی اصل قدر یہ تھی کہ انسان کو ملنے والے معاوضے کے برابر یا اس سے بڑھ کر اپنی اہلیت، قابلیت اور دیانت داری کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے اساتذہ کی تربیت اور تعلیم کے ماحول کی بہتری کے لیے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔
بیلا رضا جمیل نے کہا کہ انیتا غلام علی کے ساتھ بطور شاگرد وقت گزارنا میرے لیے کسی خواب کی تعبیر سے کم نہیں تھا۔ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں تقریباً 30 ماہ ان کی شاگردی میں گزارے، جہاں ان سے توقع سے کہیں زیادہ سیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ انیتا غلام علی کے ساتھ گزارا گیا ایک ایک لمحہ اور ایک ایک دن میرے لیے بے حد قیمتی تھا۔ میں ان کی شخصیت، کام اور سوچ کو قریب سے دیکھ کر سیکھنے کی کوشش کرتی رہی۔
انیتا غلام علی تعلیم کے شعبے میں بنیادی تبدیلی لانا چاہتی تھیں۔ تقریب کے اختتام پر معروف صحافی غازی صلاح الدین نے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے مہتاب اکبر راشدی کو گلدستہ پیش کیا۔
