ٹاؤن کی سطح پر پراپرٹی ٹیکس کی وصولیابی کا مقصد کونسلز کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا:ناصر شاہ
کراچی: صوبائی وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیرصدارت ورلڈ بینک کے وفد کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے میں غیر منقولہ جائیداد کے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی، اس کے نظام میں بہتری، شفافیت اور بلدیاتی اداروں کو مالی طور پر مستحکم بنانے کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ورلڈ بینک کے نمائندگان، چیئرمین پی اینڈ ڈی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری لوکل گورنمنٹ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران پراپرٹی ٹیکس کی موجودہ وصولیابی کے نظام، ٹاؤن کی سطح پر ٹیکس کلیکشن اور اس سے حاصل ہونے والے فنڈز کے استعمال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ٹاؤن کی سطح پر پراپرٹی ٹیکس کی وصولیابی کا بنیادی مقصد لوکل کونسلز کو مالی طور پر اپنے پیروں پر کھڑا کرنا اور انہیں عوام کو بہتر بلدیاتی سہولیات فراہم کرنے کے قابل بنانا ہے گراس روٹ لیول پر بلدیاتی نمائندوں اور اداروں کا استحکام عوام کی دہلیز تک ریلیف کی فراہمی کی ضمانت ہے، اس لیے بلدیاتی نظام کو مالی اور انتظامی طور پر مضبوط بنانا سندھ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ناصر حسین شاہ نے ہدایت کی کہ پراپرٹی ٹیکس کی مد میں حاصل ہونے والے فنڈز کی خصوصی نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے تاکہ عوام سے وصول کیے جانے والے ٹیکس کا پیسہ منصفانہ، شفاف اور عوامی مفاد میں خرچ ہونا یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم کو گلی محلوں کی سڑکوں، اسٹریٹ لائٹس، نکاسی آب اور دیگر بنیادی انفرااسٹرکچر کی بہتری سمیت براہ راست عوامی سہولیات پر خرچ کیا جائے گا، تاکہ ٹیکس ادا کرنے والے شہریوں کو اس کے فوائد عملی طور پر اپنی دہلیز پر نظر آئیں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ عوام کو ریلیف کی فراہمی چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا وژن اور وزیراعلیٰ سندھ کا مشن ہے، جس کی تکمیل کے لیے بلدیاتی اداروں کو مؤثر، فعال اور جوابدہ بنانا ضروری ہے۔ تمام ٹاؤنز کے درمیان عوام کو بہتر بلدیاتی سہولیات فراہم کرنے اور کارکردگی بہتر بنانے کے حوالے سے صحت مند مسابقت کا رجحان پیدا کیا جائے گا، جبکہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ٹاؤنز کو خصوصی ترقیاتی گرانٹس فراہم کی جائیں گی تاکہ دیگر ٹاؤنز بھی بہتر کارکردگی کے لیے اقدامات کریں۔ ناصر حسین شاہ نے مزید کہا کہ عوام کو بہتر ریلیف فراہم کرنے والے افسران اور بلدیاتی اداروں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور کارکردگی کو بنیاد بنا کر مؤثر نگرانی کا نظام وضع کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس کی وصولیابی کا مکمل اور مستند ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے جدید نظام قائم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس وصولی اور اس کے استعمال کے تمام مراحل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔ اجلاس میں پراپرٹی ٹیکس کے دائرہ کار کو مؤثر بنانے، وصولیابی کے عمل کو بہتر بنانے اور بلدیاتی اداروں کی مالی خودمختاری میں اضافے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ ورلڈ بینک کے وفد نے سندھ حکومت کی جانب سے عوام کو بہتر بلدیاتی سہولیات اور ریلیف کی فراہمی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی، جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے بھی ورلڈ بینک کے وفد کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔
