سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2026ء منظور، اپوزیشن کا احتجاج
کراچی: سندھ اسمبلی نے بلدیاتی قوانین میں ترامیم کے لیے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2026ء منظور کرلیا، اپوزیشن نے احتجاجاً بل کی کاپیاں پھاڑ دیں، ایم کیو ایم نے اسے سیاسی آمریت قرار دے دیا، جماعت اسلامی نے بل کی منظوری کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کردیا۔
سندھ اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر قانون ضیا الحسن لنجار نے بلدیاتی قوانین میں ترامیم سے متعلق سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2026ء پیش کردیا۔ بل پیش ہونے پر ایوان ہنگامہ شروع ہوگیا، اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ کیا اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔
اپوزیشن ارکان ایوان میں نعرے بازی کرتے رہے اسی دوران ووٹنگ ہوئی اور سندھ اسمبلی نے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2026ء کثرت رائے سے منظور کرلیا اور اجلاس منگل کے روز تین بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
اجلاس کے بعد اپوزیشن ارکان نے بل کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کردیا۔
اپوزیشن رکن شبیر قریشی نے کہا کہ لوکل بل مسترد کرتے ہیں، 2023ء میں ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے مرتضی وہاب کو ہمارے اوپر مسلط کیا گیا تھا، پھر دوبارہ سے یہی لوگ ہونگے تو دھاندلی کا گمان یقین میں بدل جائے گا۔
جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے کہا کہ لوکل باڈی ایکٹ میں اختیارات ہی نہیں ہیں، 18 ویں ترمیم کے بعد انہوں نے سارے اختیارات خود رکھ لیے جو ترمیم میں نے پیش کی تھی اسے نظر انداز کردیا گیا، یہ بل لوگوں کی حفاظت نہیں کرتا اسے ہم مسترد کرتے ہیں، اس ترمیم میں سیاسی منتخب لوگ الیکشن نہ ہونے کی صورت میں سیاسی ایڈمنسٹریٹر بن جائیں گے
ایم کیو یم کے قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے کہا کہ سیاسی آمریت چل رہی ہے، اسمبلی سیشن میں تمام بزنس کو ایک طرف کر کے یک دم بل منظور کر لیا گیا، پارلیمان کے اندر اور باہر تمام سیاسی جماعتیں اس بل کو مسترد کرتی ہیں
ایم کیو ایم رکن افتخار عالم نے کہا کہ ہمارے موقف کو نہیں سنا گیا، سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ہونی چاہیے
اجلاس کے بعد بل سے متعلق شرجیل انعام میمن اور ضیا الحسن لنجار نے میڈیا سے گفتگو کی، وزیر داخلہ ضیا لنجار نے کہا کہ یہ بل ہم نے جمہوری طریقے سے پیش کیا اس بل کے لیے اسپیشل کمیٹی تشکیل دی گئی.
ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ اس میں ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے اراکین بھی شامل تھے، ایم کیو ایم کمیٹی میں بھی اس بل کی مخالفت کا اعلان کرکے بائیکاٹ کر سکتی تھی مگر انہوں نے اپنے پروپوزل بھی پیش کیے تھے، کمیٹی میں ہر سیکشن پر بحث ہوئی انہوں نے اپنی تجاویز دیں حکومت نے وہ مانی ہیں۔ لوکل باڈیز کی مدت پوری ہوتی ہے تو 120 دن قبل حکومت الیکشن کمیشن کو لکھے گی، الیکشن کا شیڈول آتے ہی اختیارات ختم ہو جاتے ہیں، ایم کیو ایم کی تجویز تھی کہ 90 روز لکھیں، دیگر صوبوں میں تو الیکشن ہی نہیں ہو رہے، ہم چاہتے ہیں کہ تسلسل رہنا چاہیے، ہم تو چاہتے ہیں پہلے ہی الیکشن کرائیں اس کے بعد اتفاق ہوا، ہم نے ڈپٹی میئر اور وائیس چیئرمین کو کنوینر قرار دیا ہے ہم تو چیئرمین کو اختیارات دے رہے پولیس بھی ان کے اختیارات کو تسلیم کرے گی۔
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا کہ ہر نظام میں بہتری کی گنجائش ہوتی ہے پورے پاکستان میں لوکل گورنمنٹ کا نظام سندھ کے علاوہ کہیں نہیں، الیکشن کمیشن نے متعدد بار انتخابات کے لیے لکھا، مگر پنجاب گورنمنٹ نے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا، باقی حکومتیں اپنی مرضی چلا رہی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کراچی کا میئر دیگر شہریوں کے میئر سے زیادہ خودکفیل اور بااختیار ہے، ہم نے اس بل میں مصالحتی کمیشن بنایا ہے، چھوٹے چھوٹے مسائل یونین کونسل حل کرے جنہیں بعد میں کورٹ کی ڈگری بھی دی جائے گی۔
