سیسی ہیڈ آفس میں ہسپتال کے عملے کیلئے 4 روزہ تربیتی کورس میں معلوماتی لیکچرز کا سلسلہ جاری
کراچی: کمشنر سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) ہادی بخش کلہوڑو اور میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر کامران اعوان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں سیسی ہیڈ آفس میں ادارے کے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور ہسپتال کے دیگر شعبوں سے وابستہ عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کیلئے تربیتی کورس میں مقررین کے لیکچرز کا سلسلہ جاری رہا۔
یہ تربیتی کورس “SESSI in collaboration with ILO-WHO Healthwise toolkit” کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ہسپتال کے عملے کو بین الاقوامی معیار کے مطابق صحت و حفاظت کے اصولوں سے روشناس کرانا ہے۔ تربیتی کورس کے دوسرے روز ڈپٹی میڈیکل ایڈمن/ماسٹرٹرینر ڈاکٹررافعہ رضانے شرکاء کو "Biological Hazards and Infection Control with Special reference to HIV and TB”اور and "Tackling discrimination, harassment and violence at the work place” کے موضوعات پر شرکاء کو تفصیلی لیکچر دیئے۔
انہوں نے کہاکہ ہسپتالوں یا طبی مراکز میں کام کرنے والے ڈاکٹرز، نرسز، لیب ورکرز اور صفائی عملہ دو بڑے خطرات کا سامنا کرتے ہیں: ایک طرف حیاتیاتی خطرات جیسے HIV اور TB، اور دوسری طرف امتیاز، ہراسانی اور تشدد۔ یہ دونوں مسائل الگ نہیں بلکہ ایک ہی بنیادی ضرورت سے جڑے ہیں۔کام کی جگہ پر تحفظ اور عزت۔انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ حیاتیاتی خطرات HIV ،خون اور جسمانی رطوبتوں سے، جبکہ TB ہوا کے ذریعے پھیلتا ہے۔ انفیکشن کنٹرول کے لیے ہاتھ دھونا، دستانے اور N95 ماسک کا استعمال، سوئیوں کو محفوظ طریقے سے ضائع کرنا، وینٹیلیشن، اور جراثیم کشی بنیادی اقدامات ہیں۔ سوئی چبھنے جیسے حادثے کی صورت میں فوری PEP علاج جان بچا سکتا ہے۔ دوسرا امتیاز، ہراسانی اور تشدد، جنس، مذہب، نسل یا معذوری کی بنیاد پر غیر منصفانہ سلوک، غیر مناسب رویہ، دھمکیاں یا جسمانی حملے کام کی جگہ کو غیر محفوظ بنا دیتے ہیں۔ صحت کے شعبے میں عملہ مریضوں اور عوام سے براہ راست رابطے کی وجہ سے زیادہ خطرے میں ہوتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ حیاتیاتی خطرات سے مراد وہ خطرات ہیں جو ہسپتالوں، لیبارٹریوں اور طبی عملے کو خون، بلغم اور دیگر جسمانی رطوبتوں کے ذریعے لاحق ہوتے ہیں، اور ایچ آئی وی و ٹی بی ان میں سب سے اہم شمار ہوتے ہیں۔ انفیکشن کنٹرول کے موثر اقدامات میں ہینڈ ہائیجین، حفاظتی دستانے اور ماسک کا استعمال، آلات کی مناسب صفائی، اور متاثرہ مریضوں کی جلد تشخیص و علیحدگی شامل ہیں۔ عوام اور صحت کے عملے کی باقاعدہ تربیت و آگاہی ہی ان خطرات سے مؤثر تحفظ اور انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کی ضمانت ہے۔
کورس کے تیسرے دن ماسٹر ٹرینر ڈاکٹر فہد دین شیخ نے بھی شرکاء کو "Towards a Green and Healthy Workplace” اور "The Key Role of Staff: Recruitment, Support, Management, Retention” جیسے اہم موضوعات پر اہم اور مفید معلومات فراہم کی ۔ انہوں نے کام کی جگہ کو ماحول دوست اور صحت بخش بنانے کے اصولوں پر روشنی ڈالی ، جس میں ماحولیاتی بہتری، فضلے کی کم سے کم پیداوار، محفوظ و صحت مند ماحول کی تشکیل اور پائیدار طریقوں کو اجاگر کیا گیا۔
انہوں نے ہسپتال میں بہترین عملے کی بھرتی، ان کی مسلسل معاونت و تربیت، مؤثر انتظام اور تجربہ کار عملے کو ادارے میں برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا ۔ ڈاکٹرفہد نے شرکاء کو بتایا کہ کسی بھی ہسپتال کی کارکردگی اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا معیار براہِ راست اس کے عملے کی تربیت اور مسلسل معاونت سے جڑا ہوا ہے۔
کورس کے شرکاء نے لیکچرز میں بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور عملی مشقوں اور سوال و جواب کے دوران اپنی استعداد میں اضافہ کیا۔ شرکاء نے تربیتی کورس کے انعقاد کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے ادارے کی قیادت اور منتظمین کاشکریہ ادا کیا۔
